تل ابیب،تہران(ایجنسیاں)اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف جاری جنگ چند دنوں میں ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ باوثوق سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکام نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ وہ ایران کی موجودہ حکومت کو گرانے میں ناکام رہے ہیں، تاہم انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو مؤثر انداز میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
’نظام کی تبدیلی میں ناکامی، جوہری اہداف پر کامیابی‘
اسرائیلی حکام کے مطابق’’ہم ایرانی حکومت کو غیر مستحکم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، لیکن ایرانی جوہری صلاحیتوں کو کافی حد تک پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔‘‘اس بیان سے اسرائیلی قیادت کے اسٹرٹیجک مقاصد میں تبدیلی کی نشاندہی ہوتی ہے، جہاں حکومتی تبدیلی کے بجائے فوجی اہداف کی تکمیل کو مرکزی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ایرانی اپوزیشن کی خفیہ حمایت کی منصوبہ بندی
اسرائیلی دفاعی مبصرین کے مطابق آئندہ دنوں میں جنگ کے خاتمے کے بعد ایرانی اپوزیشن گروپوں کی خفیہ حمایت بڑھانے کا امکان ہے، تاکہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہای کو اندرونی سطح پر دباؤ میں لایا جا سکے۔
اسرائیلی فوج کا محتاط ردعمل
جب اسرائیلی فوجی ترجمان سے پوچھا گیا کہ آیا اسرائیل ایران کے خلاف جنگ ختم کر رہا ہے، تو انہوں نے نہ ہاں میں جواب دیا اور نہ انکار کیا۔ ترجمان نے بیان دیا’’صورتحال مسلسل جائزے میں ہے، اور دفاعی مقاصد کے پیش نظر کسی بھی وقت پالیسی میں تبدیلی ممکن ہے۔‘‘
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے عراق اور قطر میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے کیے،اسرائیل نے ایران کے فردو، نطنز اور اصفہان میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا،روس نے ایران کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’ایرانی عوام کی مدد کیلئے تیار‘‘ ہے،اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے نتیجے میں کئی خلیجی ممالک نے فضائی حدود بند کر دی ہیں۔
اگرچہ اسرائیل کی جانب سے جنگ ختم کرنے کا باضابطہ اعلان تاحال سامنے نہیں آیا، تاہم سیکیورٹی ذرائع اور دفاعی مبصرین کے تبصروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل جنگی کارروائیوں کو محدود یا مکمل طور پر بند کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
جنگ کے خاتمے کی ممکنہ خبر ایک اہم سفارتی موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے اثرات مشرق وسطیٰ کی سیاست، توانائی مارکیٹس، اور عالمی سلامتی پر نمایاں ہوں گے۔

