مسی ساگا(نمائندہ خصوصی)ممبرپارلیمنٹ شفقت علی حلقے کے دفترمیں امیگریشن کے وزیرمارک ملرکے ساتھ میٹ دی پریس میں شریک ہیں اس موقع پر’جنگ نیوزکینیڈا‘کےسینئرصحافی اشرف لودھی نے مارک ملرسے سوال کیاکہ آپ نے پہلے ہی دو دور مکمل کر لئے ہیں، لیکن پاکستان کے حوالے سے ایڈوائزری اب بھی برقرار ہے۔ آپ کی کیا رائے ہے؟ کیونکہ یہ ایڈوائزری کسی اور حکومت یا کسی اور جماعت کیلئے ختم نہیں ہوئی۔ امید ہے کہ لبرل پارٹی ہی پاکستان کیلئے اس ایڈوائزری کو ختم کر دےگی۔جس پرامیگریشن کے وزیرمارک ملرنے اپنے جواب میں بتایا آپ سفری ایڈوائزری کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ پاکستان اب بھی سفری ایڈوائزری میں شامل ہے،مجھے امید ہے کہ یہ ختم ہو جائے گی۔ یہ معاملہ گلوبل افیئرز کینیڈا کے تحت آتا ہے، اور اس کا تعلق لوگوں کی حفاظت سے ہے۔ میں کسی ایک ملک کا دوسرے ملک سے موازنہ کرنا پسند نہیں کرتا، اور آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایک ملک دوسرے سے زیادہ محفوظ ہے، لیکن یہ فیصلہ گلوبل افیئرز کینیڈا کرتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان ممالک کا سفر کرنے والے افراد کی حفاظت کی جا رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مارک ملرنے بتایاکہ پچھلی تین دہائیوں کے دوران پیدا ہونے والا مسئلہ چند سالوں میں حل نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک حقیقت ہے۔وفاقی حکومت تقریباً 30 سال سے وفاقی سطح پر ہاؤسنگ پالیسیوں سے باہر رہی ہے۔ صرف جسٹن ٹروڈو اور ان کی حکومت نے ایسے پروگرام متعارف کروائے ہیں جنہوں نے ہاؤسنگ سپلائی اور وفاقی حکومت کے اس میں کردار کو ایڈریس کرنا شروع کیا۔ یہ مجموعی طور پر ایک نظامی ناکامی ہے کہ اس مسئلے کو بروقت حل نہیں کیا جا سکا۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو کسی بھی حکومت کی موجودگی کے باوجود تین دہائیوں سے چلا آ رہا ہے۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں اسے سنجیدہ نہیں لے رہا، لیکن مارکیٹ اوپر بھی جاتی ہے اور نیچے بھی آتی ہے۔ میرے خیال میں مستقل وفاقی سرمایہ کاری ضروری ہے تاکہ ہم اگلے 10 سالوں میں دوبارہ اسی مسئلے کا سامنا نہ کریں اور لوگ یہ نہ کہیں کہ ’’وفاقی حکومت کہاں تھی؟‘‘۔ یہ ایک صوبائی ذمہ داری ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وفاقی حکومت کو اس میں سرمایہ کاری نہیں کرنی چاہیے۔ ہماری حکومت متحرک ہے اور اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ ہم ہاؤسنگ سپلائی کے عمل میں شامل ہوں۔ مارگیج اور سود کی شرحوں میں کمی سے اس مارکیٹ میں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔
میٹ دی پریس کے دوران ایک اورصحافی نے سوال کیاکہ آپ کچھ فیصلے اور اصلاحات کر رہے ہیں۔ اپنے پچھلے بیان میں، آپ نے کہا تھا کہ آپ MIA کے 50 نکات کو ختم کرنے جا رہے ہیں۔ تو کیا یہ فیصلے قانونی نوعیت کے ہیں یا انتظامی نوعیت کے؟ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، مسٹر کروگر کو پارلیمنٹ کا سہارا لینا ہوگا۔مارک ملرنے اس حوالے سے جواب دیتے ہوئے کہا یہ واقعی ایک اچھا سوال ہے۔ مجھے MIA کے 50 نکات کو ہٹانے کیلئے پارلیمنٹ جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ اس بہار میں ہونے جا رہا ہے۔
سوال: اور وہ دیگر اصلاحات جن کے بارے میں آپ بات کر رہے ہیں؟جواب: زیادہ تر اصلاحات کیلئے، میں کہوں گا کہ میرے پاس خاطر خواہ صوابدیدی اختیارات ہیں، شاید اتنے نہیں جتنا لوگ سوچتے ہیں۔ میرے بہت سے فیصلوں کیلئےپارلیمنٹ جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھار قانون سازوں سے مشورہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر میں کینیڈا میں پناہ گزینوں کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں کرنا چاہوں، تو مجھے پارلیمنٹ جانا ہوگا۔بدقسمتی سے، میں نے پچھلے جون میں کچھ پناہ گزین اصلاحات کی کوشش کی تھی، لیکن کنزرویٹو، بلاک کیوبیکوا، اور این ڈی پی نے اس کی مخالفت کی۔ تو ہم آج وہیں کھڑے ہیں، حالانکہ ہم نے کچھ کوششیں کی ہیں۔
اگر پارلیمنٹ واپس آتی ہے، تو میں مزید اصلاحات کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ لیکن اگر آپ اس کی ذمہ داری پارلیمنٹ کی معطلی پر ڈالنا چاہتے ہیں، تو آپ پچھلے چھ ماہ کا جائزہ لے سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ پیئر پویلیور نے کس طرح رکاوٹیں ڈال رکھی ہیں۔حقیقت میں، وہ امیگریشن کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں، ہر کمیونٹی میں جا کر ویزے دینے کے وعدے کرتے ہیں، یا زیادہ پروازیں بھارت کے لیے، یا جو کچھ بھی وہ مختلف ریڈیو اسٹیشنز پر جا کر دعوے کرتے ہیں۔میں لوگوں کے ساتھ ایماندار رہنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
اگر انہیں میری باتیں پسند نہیں آتیں، تو وہ اپنے فیصلے کر سکتے ہیں۔ لیکن ایک سیاستدان کو کینیڈین عوام کے ساتھ ایماندار ہونا چاہیے۔مجھے پیئر پویلیور میں یہ دیانت داری نظر نہیں آتی۔ پھر بھی، اگر مجھے پناہ گزینوں کی اصلاحات میں کوئی بڑی تبدیلی کرنی ہو، تو مجھے پارلیمنٹ جانا ہوگا۔ لیکن جہاں تک LMIA کا تعلق ہے، مجھے اس کیلئے پارلیمنٹ جانے کی ضرورت نہیں۔
سوال: میرا سوال غیر ملکی ڈگریوں کی تسلیم شدگی سے متعلق ہے۔ بہت سے ہنر مند تارکین وطن، خاص طور پر صحت کے شعبے اور انجینئرنگ میں، یہاں موجود ہیں لیکن اپنی ڈگریوں کو تسلیم نہیں کروا پا رہے۔ اس عمل کو آسان بنانے اور تیز کرنے کیلئے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ کینیڈا میں اپنا کردار ادا کر سکیں؟جواب: صحت کے شعبے اور یہاں تک کہ تعمیرات میں بھی یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے۔ہمارا ملک بہت زیادہ ضابطوں کا پابند ہے، اور اس کی کئی جائز وجوہات ہیں، جیسے حفاظتی اقدامات اور یہ یقینی بنانا کہ کینیڈین عوام کو بہترین طبی سہولیات حاصل ہوں۔ کچھ صوبے ان رکاوٹوں کو کم کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت ضروری ہے۔یہ ذمہ داریاں صوبائی سطح پر آتی ہیں، اور میرا خیال ہے کہ ان کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ ان مسائل کو حل کریں۔
میں نے البرٹا میں کچھ مثبت اقدامات دیکھے ہیں، اور بی سی سمیت دیگر کچھ صوبوں میں بھی، تاکہ ان افراد کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں جو بیرون ملک سے ہنر لے کر آتے ہیں۔ابھی ہم مکمل طور پر وہاں نہیں پہنچے ہیں۔ سب کچھ مثالی نہیں ہے۔میں کسی بھی وفاقی سیاستدان سے محتاط رہنے کا کہوں گا جو کہے کہ اس کے پاس کوئی جادوئی حل ہے، کیونکہ صوبے اپنے دائرہ اختیار کے مطابق کام کرتے ہیں۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وفاقی حکومت اس سے لاتعلق ہو جائے۔
ہم کئی اقدامات میں صوبوں کو شامل کرتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ اگر آپ کو یہ ہنر مند افراد درکار ہیں، تو آپ کو ان کے لیے رکاوٹیں ختم کرنا ہوں گی تاکہ وہ اپنے پیشے میں مکمل طور پر کام کر سکیں۔لیکن ہم ابھی تک مکمل طور پر اس مرحلے پر نہیں پہنچے ہیں۔ ہمیں دیگر ممالک کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوتا ہے جو ان مسائل کا شکار نہیں ہیں۔ اسلئے یہ ہمارے لئے محض ایک عیاشی نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے کہ ہم ان ضوابط کو بہتر بنائیں، بغیر ان حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کیے جن کی بنیاد پر یہ قوانین بنائے گئے ہیں۔

