’یہ ناقابل قبول ہے‘ — سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قطر پر ایرانی حملے کی مذمت

ریاض / ابوظہبی / دوحہ(ایجنسیاں)سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران کی جانب سے قطر میں العدید ایئر بیس پر کیے گئے میزائل حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے قطر کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور خطے کے امن کیلئےخطرہ قرار دیا ہے۔

سعودی عرب: ‘یہ ایک ناقابلِ قبول اقدام ہے’
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق سعودی وزارتِ خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا’’قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر ایرانی حملہ بین الاقوامی قوانین اور ہمسائیگی کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا’’یہ ایک قابل اعتراض اور ہر حال میں ناقابلِ قبول اقدام ہے۔‘‘

سعودی عرب نے قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ’’ہم قطر کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائینگے اورتمام اقدامات کی بھرپور حمایت کریں گے۔‘‘

متحدہ عرب امارات: ’بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی‘
یو اے ای کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھی ایران کی کارروائی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا گیا’’یہ حملہ قطر کی فضائی حدود اور خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے صریح منافی ہے۔‘‘

یو اے ای نے مزید کہا کہ’’ہم ایسے کسی بھی اقدام کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں جو قطر کی سلامتی و استحکام کو خطرے میں ڈالے۔‘‘بیان میں متحدہ عرب امارات نے قطر کی حکومت، شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کے لیے کیے گئے تمام اقدامات کی غیر متزلزل حمایت کا اعلان بھی کیا۔

خطے میں کشیدگی پر خلیجی ردعمل بڑھنے لگا
ایران کی جانب سے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کیلئےقطر میں میزائل داغنے کے بعد خلیجی ریاستوں کا ردعمل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سعودی عرب اور یو اے ای کی جانب سے قطر کے دفاع میں کھل کر بیانات سامنے آنا خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے اندرونی اتفاق رائے کی جھلک دکھاتے ہیں۔

ایران کی جانب سے یہ وضاحت بھی سامنے آئی تھی کہ قطر کو حملے سے پیشگی اطلاع دی گئی تھی تاکہ شہری نقصانات سے بچا جا سکے، تاہم سعودی عرب اور یو اے ای نے اس وضاحت کو تسلیم کرنے سے گریز کیا ہے اور حملے کو بین الاقوامی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔

مزید علاقائی و بین الاقوامی ردعمل کے ساتھ صورتحال مزید واضح ہو سکے گی، اور ممکنہ سفارتی اقدامات یا مشاورت کا آغاز متوقع ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں