اسرائیل کی ایران میں چوتھے روز شہری تنصیبات پر بمباری، تہران کے باسیوں کو براہ راست دھمکی

تہران/یروشلم (ایجنسیاں)– مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے جہاں اسرائیل کی جانب سے مسلسل چوتھے روز ایران پر فضائی حملے جاری رہے۔ تازہ ترین حملوں میں کرمان شاہ میں واقع فارابی ہسپتال اور ایلام کے شہر موسیان میں ایک فائر اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں میں شہری انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ متعدد مقامات پر تباہی کی ویڈیوز ایرانی خبر رساں اداروں نے جاری کی ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے “تسنیم” اور “فارس” کے مطابق کرمان شاہ کے قریب ایک ورکشاپ کو نشانہ بنانے کے بعد فارابی ہسپتال کو بھاری نقصان پہنچا، جہاں شیشے ٹوٹ گئے، چھتیں گر گئیں اور مریضوں کے کمروں میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی گئی۔ فارس نیوز ایجنسی نے جائے وقوعہ کی ویڈیو جاری کی جس میں تباہ شدہ ہسپتال کی حالت واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

اسی طرح ایلام کے موسیان شہر میں فائر بریگیڈ کی عمارت پر بھی بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں عمارت میں آگ بھڑک اٹھی اور دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ تسنیم کے مطابق ایرانی فضائی دفاع نے مغربی ایران میں اسرائیل کے 8 جدید ترین ڈرون، جن میں ایم کیو-9 قسم بھی شامل ہے، مار گرائے ہیں۔

اس دوران اسرائیلی فوج نے پیر کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے ایران کے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل لانچرز میں سے تقریباً ایک تہائی کو تباہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈفرین کے مطابق 50 سے زائد لڑاکا طیاروں اور فضائی یونٹس نے یہ کارروائیاں کیں اور 120 سے زائد میزائل لانچرز کو تباہ کیا گیا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دھمکی آمیز بیان میں واضح کیا کہ ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملوں کی قیمت تہران کے شہری چکائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کے رہائشی علاقوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کم از کم 21 شہری ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع کا بیان بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بن رہا ہے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ”تہران کا متکبر آمر ایک خوفزدہ قاتل بن چکا ہے جو اسرائیلی شہری علاقوں پر حملے کر کے ہماری فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔”انہوں نے کھلے الفاظ میں کہا کہ “تہران کے شہری بہت جلد اس کی قیمت چکائیں گے۔”

مبصرین کے مطابق یہ بیان ایران کے شہریوں کو براہِ راست نشانہ بنانے کی دھمکی کے مترادف ہے، جو انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

خطے کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے جبکہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے فوری جنگ بندی اور انسانی جانوں کے تحفظ کی اپیل کی جا رہی ہے۔ اس وقت سب کی نظریں عالمی طاقتوں پر لگی ہیں کہ وہ اس بگڑتی ہوئی جنگ کو روکنے کیلئے کیا اقدامات کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں