ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل موسوی نے تل ابیب و حیفہ کے شہریوں کو فوری انخلا کی ہدایت جاری کردی
تہران(ایجنسیاں) – ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل سید عبدالرحیم موسوی نے منگل کے روز اسرائیلی جارحیت کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی اور فیصلہ کن کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل کے شہریوں کو فوری طور پر مقبوضہ علاقوں سے نکلنے کا مشورہ دے دیا ہے۔
کردستانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، جنرل موسوی نے ایک ویڈیو پیغام میں اسرائیل کو خبردار کیا کہ ایران کی جانب سے اب تک کی گئی تمام کارروائیاں محض دفاعی اقدامات تھیں، جبکہ اصل حملے کا مرحلہ اب شروع ہونے والا ہے۔
ایرانی جنرل نے کہا”ہم مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے شہریوں، خاص طور پر تل ابیب اور حیفہ کے رہائشیوں کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ اپنی حفاظت کیلئےفوری طور پر ان علاقوں سے نکل جائیں۔”
انہوں نے اسرائیلی افواج پر الزام لگایا کہ وہ ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے بہانے سے عام شہریوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہی ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
جنرل موسوی نے کہا کہ اب تک ایرانی فضائیہ، ایئر ڈیفنس، فوج، پولیس اور وزارت دفاع کی مربوط کارروائیوں نے دشمن کو سنگین نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم، ان کے مطابق”یہ سب کچھ صرف ایک انتباہ تھا۔ اب ہم دشمن کو فیصلہ کن نتائج سے دوچار کریں گے۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے ہمیشہ دفاعی اور مزاحمتی پالیسی اختیار کی ہے اور ایرانی قوم کبھی ظلم کے سامنے نہیں جھکی۔ حالیہ اسرائیلی حملوں میں علماء، فوجی کمانڈروں اور عام شہریوں کی شہادت نے قوم کے عزم کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔
جنرل موسوی نے ایران کے دیرینہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ”ایران نے ہمیشہ جارحیت کے خلاف مزاحمت کی ہے۔ ہم نہ صرف اپنی سرزمین کی حفاظت کریں گے بلکہ جارح قوتوں کو ایسے افسوسناک نتائج سے دوچار کریں گے جنہیں وہ مدتوں یاد رکھیں گے۔”
ایرانی جنرل نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور مشرق وسطیٰ میں مزید انسانی المیے سے بچنے کیلئےفوری اقدام کریں۔

