ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کیلئےجرمنی کی سفارتی کوششیں جاری

برلن(نمائندہ خصوصی)جرمنی نے ایران کے ممکنہ ایٹمی عزائم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جرمن وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ تہران کے جوہری عزائم پر اسرائیل کی تشویش کو جائز سمجھا جاتا ہے، تاہم اس حساس معاملے کا سفارتی حل تلاش کرنا ہی بہترین راستہ ہے۔

بیان میں کہا گیا”ایرانی حکومت کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی اجازت دینا ناقابل قبول ہے۔ ہماری گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط سفارتی کوششوں کا مقصد یہی ہے کہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکا جائے۔”

جرمن وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ حالیہ دنوں میں خطے میں جاری فوجی کارروائیاں شدت اختیار کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ایک بڑا علاقائی تصادم جنم لے سکتا ہے۔ بیان میں متنبہ کیا گیا:
“خطرہ ہے کہ تمام توجہ صرف فوجی حل پر مرکوز ہو جائے۔ اس بات کا خدشہ ہے کہ یہ تنازعہ مزید ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔”

جرمن حکومت نے اس تناظر میں تمام متعلقہ فریقین سے اپیل کی ہے کہ تحمل، مذاکرات، اور بین الاقوامی قوانین کے تحت مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ جرمنی اپنے یورپی اور عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کے ایٹمی پروگرام کی نگرانی، اور اس کے ممکنہ عسکری مقاصد کو روکنے کے لیے سفارتی، اقتصادی اور سیاسی ذرائع بروئے کار لانے کیلئے پرعزم ہے۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، اور بین الاقوامی برادری میں جنگ کے پھیلاؤ کے خطرات پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں