تہران میں شدید دھماکے، اسرائیل کا ایرانی دفاعی نظام کی 70 بیٹریاں تباہ کرنے کا دعویٰ

اسرائیلی حملوں میں ایرانی فوجی کمانڈر جنرل علی شادمانی سمیت متعدد شہری شہید

تہران (ایجنسیاں)– اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک نیا خطرناک موڑ اختیار کر لیا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے منگل کو ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر علاقوں میں کیے گئے فضائی حملوں کے بعد شہر وقفے وقفے سے زوردار دھماکوں سے لرز اٹھا۔

اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں ایران کے “خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز” کے نئے کمانڈر میجر جنرل علی شادمانی کو شہید کر دیا گیا ہے جبکہ ایران کی فضائی دفاعی نظام کی 70 بیٹریاں تباہ کر دی گئی ہیں۔

ایرانی حکام نے تاحال حملوں کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں تاہم مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تین شہری شہید اور چار زخمی ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران میں ایک سے دو ہفتے کے اندر اندر اپنے تمام مطلوبہ اہداف حاصل کر لے گی۔ حملے کے ابتدائی 24 گھنٹوں میں 40 سے زائد ایرانی فضائی دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں اسرائیل کو تہران اور مغربی ایران میں فضائی برتری حاصل ہو گئی ہے۔

اس کے بعد مزید 30 دفاعی نظاموں کو مختلف حملہ آور لہروں میں تباہ کیا گیا، جس کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس سے اسرائیلی ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کو ایران کے اندر مزید گہرائی تک کارروائی کا موقع ملا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس وقت بھی اسرائیلی ڈرونز ایرانی سرزمین پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل لانچرز اور ریڈارز کو تلاش کر کے نشانہ بنا رہے ہیں۔

تہران ٹائمز نے اطلاع دی ہے کہ پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی شب 8 بج کر 45 منٹ پر تہران کے وسطی اور مغربی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے، جنہوں نے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا۔

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کے بعد ایران کی فوجی قیادت خفیہ تنصیبات چھوڑ کر فرار ہو رہی ہے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کے ایک خفیہ کمانڈ سینٹر کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس میں جنرل علی شادمانی شہید ہوئے اور اسرائیلی افواج اب باقی ایرانی عسکری قیادت کو ختم کرنے کیلئے تیار ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں