بوسٹن(نامہ نگار)اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو “51 ویں ریاست” بنانے سے متعلق بیانات نہ صرف غیر سنجیدہ بلکہ کینیڈا کی خودمختاری کیلئے توہین آمیز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ان کے ہم منصب گورنرز بھی اس رائے سے متفق ہیں اور اس بیان بازی کے منفی اثرات پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
فورڈ نے کہا “ہم امریکہ سے محبت کرتے ہیں، اور کینیڈین عوام امریکیوں سے دوستی اور تعاون چاہتے ہیں لیکن ایک شخص ٹرمپ ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں جو تعلقات کو خراب کر رہی ہے۔”
یہ بیان انہوں نے بوسٹن میں ہونے والی اہم کینیڈین-امریکی میٹنگ کے دوران دیا جہاں تجارت، محصولات اور باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فورڈ نے انکشاف کیا کہ امریکی گورنرز کی رائے میں ٹرمپ کے بیانات کے بعد کینیڈا سے امریکہ کی جانب سیاحتی آمد میں واضح کمی آئی ہے۔
ڈگ فورڈ نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کی حالیہ بیان بازی سے قطع نظر، کینیڈین وزرائے اعلیٰ اور امریکی ریاستی گورنرز کے درمیان تعلقات گرمجوش اور تعمیری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کے ان خیالات کو کینیڈین سیاسی قیادت نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور اسے کینیڈا کی خودمختاری پر حملہ تصور کیا ہے۔
بوسٹن میں ہونے والی میٹنگ میں شرکت کرنے والے امریکی گورنرز میں جینیٹ ملز (مین)،فل سکاٹ (ورمونٹ)،ڈینیئل میککی (رہوڈ آئی لینڈ)،نیڈ لامونٹ (کنیکٹیکٹ)،مورا ہیلی (میساچوسٹس)،کیتھی ہوچول (نیویارک)، شامل تھے.
کینیڈا کے وفد میں شامل رہنماؤں میں جان ہوگن (نیو فاؤنڈ لینڈ و لیبراڈور)،روب لینٹز (پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ)،ٹم ہیوسٹن (نووا اسکاٹیا)،سوسن ہولٹ (نیو برنسوک)،کرسٹین فریچیٹ (وزیر اقتصادیات، کیوبیک)شامل تھے.
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ملاقات اسی دن ہوئی جب کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے البرٹا میں G7 سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر ٹرمپ سے ایک علیحدہ ملاقات بھی کی۔
کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تاریخی تعلقات اور قریبی شراکت داری کے تناظر میں، ایسی بیان بازی سے اجتناب ضروری ہے جو باہمی عزت و وقار کو مجروح کرے۔ دونوں ممالک کے قائدین کی کوشش ہے کہ باہمی روابط کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھتے ہوئے اقتصادی، سماجی اور ثقافتی میدان میں ترقی دی جائے۔

