یروشلم / صنعاء (ایجنسیاں)—اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے یمن میں حوثی رہنماؤں پر حملہ کیا ہے، جس میں حوثی ملٹری چیف محمد الغماری کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ ایران سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے، اور یہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ گروہ انصار اللہ (حوثی تحریک) کے خلاف اسرائیل کی براہ راست کارروائی تصور کی جا رہی ہے۔
تاہم، اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے میں محمد الغماری زخمی ہوئے یا ہلاک، اور نہ ہی یمن میں حوثی قیادت یا ایرانی حکام کی طرف سے اس حملے کی تصدیق یا تردید سامنے آئی ہے۔
اسی دوران، بین الاقوامی خبررساں ادارے اس بات کی بھی تصدیق کر چکے ہیں کہ حالیہ دنوں میں ایران کی عسکری قیادت اور 9 ایرانی جوہری سائنسدان اسرائیلی حملوں میں مارے جا چکے ہیں، جن میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) کے سینئر افسران شامل تھے۔
یمن میں حوثیوں پر اسرائیلی حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست فوجی تصادم جاری ہے، اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
خطے میں اسرائیلی حملوں کی جغرافیائی وسعت میں حالیہ اضافہ — جس میں ایران، شام، عراق اور اب یمن شامل ہو گئے ہیں — عالمی برادری کیلئے ایک نئے خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے۔اب تک اسرائیلی حکومت یا فوج کی جانب سے اس مخصوص حملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

