امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2008 میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ملوث پاکستانی شہری تہور رانا کی حوالگی پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
ترک خبر رساں ادارے انادولو کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں بھارتی وزیراعظم نریندر موودی کے ساتھ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہور رانا کو ’دنیا کے بدترین لوگوں میں سے ایک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف کا سامنا کرنے کیلئے بھارت واپس جا رہے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ’مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک بہت پرتشدد شخص دے رہے ہیں اور میں نہیں جانتا کہ اسے اب تک مجرم قرار دیا گیا ہے یا دیا جائے گا، لیکن فرض کریں کہ وہ ایک بہت پرتشدد شخص ہے، ہم اسے فوری طور پر بھارت کے حوالے کر رہے ہیں اور اس پر عمل کرنے کیلئے بہت کچھ ہے، کیونکہ ہمارے پاس بہت سی درخواستیں ہیں اور ہم جرائم پر بھارت کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، اور ہم اسے بھارت کیلئے اچھا بنانا چاہتے ہیں اور یہ بہت اہم ہے، اس طرح کے تعلقات ہمارے لئے بہت اہم ہیں‘۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ وہ تہور رانا کی حوالگی کے فیصلے کیلئے ٹرمپ کے بہت شکر گزار ہیں، انہوں نے تہور رانا کو بھارت میں نسل کشی کا مرتکب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’اس مجرم کو اب بھارت کے حوالے کیا جا رہا ہے، اور میں اس کیلئے صدر ٹرمپ کا شکر گزار ہوں، اور بھارت کی عدالتوں میں مناسب کارروائی کی جائے گی‘۔
یاد رہے کہ نومبر 2008 میں عسکریت پسندوں نے ممبئی میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں 160 سے زیادہ افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے، اس حملے کو بعد میں امریکا اور بھارت کی جانب سے پاکستان میں قائم لشکر طیبہ سے منسوب کیا گیا تھا۔
تہور رانا کو 2009 میں امریکا میں گرفتار کیا گیا تھا اور 2 سال بعد لشکر طیبہ کی مدد کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا، جو 2001 سے امریکا میں ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔

