آج سوچا کہ اپنے صحافتی کیریئر کے ایک سکوپ کا ذکر کروں

اس وقت میں انگریزی اخبار دی نیشن میں کرائم رپورٹر تھا اور دیر تک دفتر میں شہر بھر کے واقعات پر نظر رکھتا تھا۔ 7 جولائی 1989 کی وہ رات آج بھی مجھے ایسے یاد ہے جیسے کل کی بات ہو۔اس رات میں نے دی نیشن میں ایک ایسی خبر بریک کی تھی جو پاکستان کی میڈیکل ہسٹری میں ایک سنگ میل ثابت ہوئی.یہ خبر ملک کے پہلے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی پیدائش کے بارے میں تھی۔

لاہور میں فیروزپور روڈ پر، قذافی اسٹیڈیم کے عین سامنے، ایک نجی اسپتال میں ڈاکٹر راشد لطیف کی سربراہی میں ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے یہ کارنامہ سرانجام دیا تھا۔ اس ٹیم میں کئی قابل ڈاکٹرز شامل تھے، جن میں ایک ڈاکٹر طاہر نظامی بھی تھے، جو دی نیشن کے ایڈیٹر عارف نظامی کے بھائی تھے۔

ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی پیدائش کی خبر رات گئے ہمیں انہی ذرائع سے ملی تھی۔تقریباً رات کے بارہ بج رہے تھے جب یہ ٹپ ملا۔ خبر ملتے ہی میں نے فوری طور پر تفصیلات اکٹھی کرنا شروع کیں۔ اُس وقت نہ موبائل فون تھا، نہ انٹرنیٹ، ہر چیز روایتی ذرائع اور ذاتی تعلقات کے ذریعے معلوم کرنا پڑتی تھی۔

خبر فائل کرنے کی دوڑ
اخبار کی کاپی ڈاؤن ہونے ہی والی تھی۔ بہرحال، جلدی جلدی جو بھی معلومات مختصر وقت میں حاصل ہو سکیں، انہیں اکٹھا کیا، اور کاپی ڈاؤن ہونے سے پہلے خبر ٹائپ کر کے فائل کر دی۔ اُس وقت کمپیوٹر کا استعمال عام نہیں تھا، بس ٹائپ رائیٹر تھا۔

یہ “اِن وِٹرو فرٹیلائزیشن” (IVF) کا پہلا کامیاب کیس تھا، جسے عام فہم میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب تھا کہ پاکستان اب اُن ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا تھا جو جدید طبی سائنس میں یہ سنگ میل عبور کر چکے تھے۔

پاکستان میں پہلا ٹیسٹ ٹیوب بے بی 1989 میں پیدا ہوا، جبکہ دنیا کا پہلا ٹیسٹ ٹیوب بے بی 1978 میں انگلینڈ کے شہر اولڈم کے ایک اسپتال میں پیدا ہوا تھا۔ اس کامیابی کے پیچھے دو ڈاکٹروں کی دس سال کی محنت تھی۔ انڈیا میں پہلا ٹیسٹ ٹیوب بے بی اکتوبر 1978 میں پیدا ہوا تھا۔

سوشل سٹگما اور خبر کا اثر
میں نے ڈاکٹروں اور اسپتال کے عملے سے بات کی، والدین کے تاثرات جاننے کی کوشش کی، مگر وہ سامنے آنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ اُس دور میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے ساتھ ایک سماجی اسٹگما جڑا ہوا تھا۔
اگلی صبح دی نیشن کے صفحات پر میری اسٹوری شائع ہوئی.
“پاکستان میں پہلا ٹیسٹ ٹیوب بے بی پیدا ہو گیا”
یہ ایک بڑی خبر تھی۔ پورے ملک میں تہلکہ مچ گیا۔ ہر طرف اس حیران کن پیش رفت پر بات ہو رہی تھی.کچھ لوگ اسے جدید سائنس کی فتح قرار دے رہے تھے، تو کچھ مذہبی حلقوں میں اس پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔

کچھ علما نے IVF کے اسلامی جواز پر بحث چھیڑ دی، مگر چونکہ یہ واقعہ ایک قومی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا، اس لئے ان کےاعتراضات زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکے۔وہ بچہ، جس کی پیدائش کی میں نے خبر دی تھی، آج 35 سال کا ہو چکا ہو گا، لیکن اس کی شناخت آج بھی پوشیدہ ہے۔ پاکستان میں IVF اب عام ہو چکی ہے، اور بے شمار جوڑے اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ہیڈلائن کا مزاحیہ پہلو
خبر بریک کرنے کا وہ لمحہ، ڈاکٹروں کی کامیابی کی پُراعتماد مسکراہٹ، اور اگلے دن میرے ہاتھ میں اخبار کا وہ تازہ شمارہ. جس پر جلی حروف میں شہ سرخی تھی.

“First Test Tube Baby Born in Pakistan – By Saqlain Imam”
میرے دوست، صحافی شوکت علی نے اگلے دن مذاق کرتے ہوئے کہا.”ثقلین، یار! یہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی تم نے پیدا کیا، یا تمہارے ہاں ہوا؟ ہیڈلائن سے واضح نہیں ہو رہا!”ہم دونوں خوب ہنسے۔ لیکن جلدی میں خبریں ایسے ہی لکھی جاتی ہیں۔یہ سب کچھ آج بھی ایک زندہ یاد کی طرح میرے ساتھ ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں