آخر کب تک بچے مرتے رہیں گے؟

سندھ میں پاکستان کی سب سے ”بڑی سیاسی جماعت“ پیپلز پارٹی کی حکومت کے اقتدار کا مسلسل 17واں سال ہے۔ لیکن کراچی شہر میٹروپولیٹن سٹی کا درجہ رکھنے کے باوجود کسی چھوٹے سے قصبے یا چھوٹے شہر میں میسر سہولیات سے بھی محروم ہے۔ کراچی میں سڑکوں پر ڈمپروں، ٹرالروں اور واٹر ٹینکروں کے نیچے کچل کر نوجوانوں کا مارا جانا جہاں معمول بن چکا ہے وہاں گٹروں اور سڑک کنارے بنے نالوں کے کھلے مین ہولز میں گر کر بچوں، بڑوں اور بزرگوں کے مرنے کا سلسلہ روکا نہیں جا سکا۔ بلاول بھٹو نے کراچی شہر کی ذمہ داری مرحومہ فوزیہ وہاب کے صاحبزادے مرتضیٰ وہاب کو مئیر کراچی بنا کر سونپی ہے۔ مگر مئیر صاحب صحافیوں کے معمولی سوالوں پر جذباتی ہو جاتے ہیں اور تلخ جواب دیتے ہیں۔انہوں نے ایسا ہی ایک جواب ایک بچے کے گٹر میں گر کر مرنے پر دیا تھا کہ ”کیا میں گٹر کے ڈھکن چوری کرتا ہوں“۔ جناب مئیر سب جانتے ہیں کہ آپ گٹر کے ڈھکن چوری نہیں کرتے مگر یہ گٹر کے ڈھکنوں کی چوری روکنا اور کراچی شہر کے ہر گٹر کے ڈھکن کا اس کی جگہ پر ہونا یقینی بنانا آپ ہی کی ذمہ داری ہے اگر آپ یہ کہیں کہ یہ ٹاؤن کونسل یا یونین کونسل کی ذمہ داری ہے تو یہ سراسر غلط ہو گا۔ سندھ کے بلدیاتی قانون میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نکاسی آب کی ذمہ دار ہے تو پھر گٹر پر ڈھکن رکھنا بھی یقینی بنائے تاکہ معصوم بچے،بزرگ شہری اور اپنے خاندان کا پیٹ بھرنے والے نوجوان ان گٹروں میں ڈوب کر نہ مریں۔ رواں سال کے11مہینوں میں جہاں 235 افراد ڈمپروں، ٹرالروں اور واٹر ٹینکروں کے نیچے کچل کر مارے گئے ہیں وہاں 24 افراد ان کھلے گٹروں اور گندے نالوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جن میں 10 سال سے کم عمر کے آٹھ بچے بھی شامل ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جناب مئیر نے اس دفعہ گٹر میں ڈوب کر مرنے والے تین سالہ ابراہیم کے گھر یہ نہیں کہا کہ ”کیا ڈھکن میں لے گیا تھا یا میں نے چوری کیا تھا“۔ بلکہ انہوں نے معافی مانگی، لیکن کیا جناب مئیر کے معافی مانگنے سے ابراہیم کی ماں کو اس کا لخت جگر واپس مل جائے گا۔ کیا جناب مئیر تین سالہ ابراہیم کو زندہ واپس لا سکتے ہیں، یقینا وہ ایسا نہیں کر سکتے۔

تین سالہ ابراہیم کی موت نے جہاں بہت سے سوالوں کو جنم دیا ہے وہاں تمام ادارے بے نقاب بھی ہوئے ہیں۔ سب نے ابراہیم کی موت کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالی اور سب نقاب ہوئے۔ چنانچہ حکومت کو سخت ایکشن لینا پڑا اور وہ افسر جن کی ”مونچھ کا بال“ بھی اکھاڑنا مشکل ہوتا ہے معطل ہو کر گھر بیٹھے ہیں۔ معطلیوں کی یہ فہرست ایس ایس پی ایسٹ فرخ رضا اور ڈی سی ایسٹ ابرار احمد جعفری تک پہنچ چکی ہے جبکہ درجن بھر ان کے علاوہ ہیں۔ بلدیہ کراچی کے سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز کراچی عمران راجپوت نے اقتدار کے نشے میں تمام ذمہ داری بی آر ٹی اور ڈیپارٹمنٹل سٹور انتظامیہ پہ ڈال دی تھی۔ لیکن یہ سب بھول گئے کہ اب ہر بڑے سٹور اور دکان، ہر بڑی کوٹھی کے باہر دیوار پر کیمرے لگے ہیں جہاں سے پولیس اور اداروں کو مطلوبہ فوٹیج مل جاتی ہے، جسے ادارے چھپا لیتے ہیں لیکن یہ کسی نہ کسی طرح ٹی وی میڈیا اور سوشل میڈیا تک پہنچ ہی جاتی ہے۔ عمران راجپوت نے معطل ہونے سے پہلے جو رپورٹ بنائی تھی اس میں بی آر ٹی اور سٹور انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا کہ ریڈ لائن منصوبے کی وجہ سے یہ مین ہول کھلا رہ گیا لیکن جب فوٹیج ملی تو پتہ چلا کہ 17نومبر کی رات ون وے کی خلاف ورزی کرنے والے ڈمپر کے پہیہ سے ڈھکن ٹوٹ کر نالے میں گر گیا تھا۔ ایک بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور کے باہر موٹر سائیکل پارکنگ میں یہ مین ہول 13 دن کھلا رہا۔ اس کی ذمہ دار درحقیقت تو بلدیہ کراچی ہے لیکن اخلاقی ذمہ داری اس سٹور انتظامیہ کی بھی ہے جن کی موٹر سائیکل پارکنگ میں یہ گٹر کھلا رہا اگر وہ اس پر ایک ہزار یا دو ہزار روپے کا سیمنٹ کا سلیب رکھ دیتے تو یہ بچہ مرنے سے بچ جاتا۔

بلدیہ عظمی کراچی کے الزامات کے جواب میں بی آر ٹی ریڈ لائن انتظامیہ کا کہنا تھا کہ بچے کی موت پرانے سیوریج چینل کے مین ہول میں گرنے سے ہوئی ہے اور یہ سیورج چینل ہمارے آپریشن کنٹرول سے باہر ہے۔ ہماری تعمیراتی سرگرمیاں اس سے کافی دور تھیں۔ وہ جگہ ڈیپارٹمنٹل سٹور کے پارکنگ ایریا کے طور پر استعمال ہو رہی تھی۔یعنی ادارے ذمہ داری ڈیپارٹمنٹل سٹور مالک پر ڈال رہے ہیں کہ تم اپنے سٹور کے باہر ہونیوالی موت کے ذمہ دار ہو۔

ابراہیم کی موت کے بعد میئر کراچی پر بے حد دباؤ آیا ہے۔ سوشل میڈیا اور خاص طور پر بلدیہ کراچی میں اپوزیشن جماعت اسلامی نے مئیر پر شدید تنقید کی ہے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ابراہیم کے نانا نے بھی میئر کراچی کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹ لینے کے لئے سب آتے ہیں لیکن ان کے بچے کی مدد کے لئے کوئی آگے نہیں آیا۔ ابراہیم کے نانا کا یہ گلہ ہم سب سے ہے کہ جب بچہ اس نالے میں گرا تو وہاں کھڑے کسی شخص نے اس بچے کو بچانے کے لئے نالے میں اترنا گوارا نہیں کیا سب نے شاید یہی سوچا کہ ہمارے کپڑے گندے اور جسم ناپاک ہو جائیں گے۔ یہ کیسے کپڑے ہیں یہ کیسا جسم ہے جسے دھویا نہیں جا سکتا۔ ڈبل ون ڈبل ٹو کے عملے نے بچے کی تلاش شروع کی تو کچھ دیر کے بعد رات ہونے کی وجہ سے کام روک دیا گیا۔ جس کے بعد ایک این جی او نے مشینری منگوائی اور پھر پٹرول کے لئے عوام نے 15ہزار روپے اکٹھے کر کے مشینری کو چالو کیا۔ 15 گھنٹے کے بعد اس بچے کی لاش کیسے ملی یہ بتاتے بھی شرم آتی ہے۔ 1122 کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رضاکاروں نے بچے کی لاش نالے میں دیکھی تو وہاں کچرہ چننے والے لڑکے تنویر کو اس لاش کو نکالنے کو کہا یعنی وہ رضاکار جو کہ بچے کی تلاش میں مدد کیلئے وہاں کھڑے تھے انہوں نے اپنے ہاتھ گندے کرنا اور جھک کے بچے کی ٹانگ پکڑنا مناسب نہیں سمجھا۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ لاش نکالنے والے 25 سالہ تنویر کو پولیس والوں نے لاش نکال کر شور مچانے پر کہ بچہ مل گیا ہے تھپڑ مارے اور پھر اسی لڑکے تنویر کو متعلقہ SSP نے اپنے دفتر بلا کے انعام دیا اور تصویر بنوائی۔ ایسا لگتا ہے کراچی شہر نہیں کوئی سٹیج ہے جہاں بچوں کی موت کے ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں۔ خدا کے لئے بچوں کی موت کے ڈرامے بند کرو ”آخر۔ تم کب تک بچے مارو گے“۔

ابراہیم کی موت پر سب سے خوبصورت پیغام وزیر دفاع خواجہ آصف نے دیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ ڈھکن چور بچوں کے قاتل ہیں۔اگر ایسے لوگوں کی ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہو تو انہیں موت کے مقام پر لا کر گولی ماری جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ویڈیو کے بعد بھی کوئی ایکشن نہیں ہوتا تو ہمارا نظام بھی بچوں کے قتل کا سہولت کار ہے۔