آذربائیجان کےاحمد شاہدوف کا ویانا کانفرنس میں جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اظہارِ تشویش

آسٹریا ویانا(نامہ نگار)آذربائیجان انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ ہیومن رائٹس کے سربراہ اور انسانی حقوق کے محافظ احمد شاہدوف نے OSCE ویانا کانفرنس میں خطاب کیا.(او ایس سی ای) کے دفتر برائے جمہوری اداروں اور انسانی حقوق اور کی فن لینڈ کی چیئرمین شپ کے زیر اہتمام “رواداری اور عدم امتیاز” کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ختم ہو گئی ہے۔

آذربائیجان انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ ہیومن رائٹس کے سربراہ اور انسانی حقوق کے محافظ احمد شاہدوف نے پینل مباحثوں جنوبی ایشیائی خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی طرف توجہ مبذول کروائی۔

بھارت جموں و کشمیر میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے” – احمد شاہدوف نے OSCE ویانا کانفرنس میں خطاب کیااور کہا انسانی حقوق کے محافظ نے جنوبی ایشیا کے جموں و کشمیر خطے میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے بھارت پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہندوستانی حکومت نے برسوں سے مقامی مسلم آبادی کے خلاف فوجی دباؤ اور نسلی اور مذہبی امتیاز کی پالیسی کو نافذ کیا ہے۔ شاہدوف نے بتایا کہ 1989 سے اب تک 96000افراد ہلاک، 175000شہری قید اور ہزاروں خواتین تشدد کا نشانہ بنی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی جانب سے 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تنسیخ اور خطے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی اس کی کوششیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں سمیت بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کی نمائندگی کرتی ہیں۔

احمد شاہدوف نے مزید کہا کہ ہندوستان کی پالیسیوں سے نہ صرف علاقائی امن و سلامتی کو خطرہ ہے بلکہ بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے کی ترقی میں بھی شدید رکاوٹ ہے۔ ان کے مطابق، بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں کو ایسے واقعات پر فوری ردعمل ظاہر کرنا چاہیے اور عدم برداشت اور امتیاز کو روکنے کیلئےبین المذاہب اور بین الثقافتی تعاون کو مضبوط کرنے کیلئےکام کرنا چاہیے۔

اس تقریب میں، جس میں 57 ممالک کے سفیروں، سفارت کاروں، اور سرکاری نمائندوں نے شرکت کی.

اپنا تبصرہ لکھیں