آزاد جموں و کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کیلئےسیاسی جوڑ توڑ اپنے عروج پر ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے اسمبلی میں مطلوبہ اکثریت حاصل ہوچکی ہے اور وہ نئی حکومت بنانے کیلئےمکمل طور پر تیار ہے۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن نے واضح کیا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دے گی، تاہم موجودہ حکومت کیخلاف تحریکِ عدم اعتماد میں حصہ لے کر اقتدار کی تبدیلی کا راستہ ہموار کریگی۔ دونوں جماعتوں نے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت موجودہ وزیر اعظم کیخلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی سطح پر بھی اس معاملے پر مشاورت جاری ہے اور امکان ہے کہ آئندہ چند دنوں میں اقتدار کی منتقلی کا باقاعدہ اعلان ہو جائے۔ اس تمام عمل نے آزاد کشمیر کے سیاسی منظرنامے کو غیر معمولی طور پر ہلا دیا ہے اور اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل واضح محسوس کی جا سکتی ہے۔
2021 کے عام انتخابات میں آزاد جموں و کشمیر کی 53 نشستوں میں سے پاکستان تحریک انصاف نے 25 نشستیں حاصل کر کے واضح برتری حاصل کی تھی، پیپلز پارٹی نے 11 اور مسلم لیگ ن نے 6 نشستیں جیتی تھیں۔ بعد ازاں مخصوص نشستوں کے اضافے اور جوڑ توڑ کے بعد پارٹی پوزیشن کچھ بدلی، مگر اکثریت بدستور تحریک انصاف کے پاس رہی۔ تاہم، پارٹی کے اندرونی اختلافات، عدالتی فیصلوں اور اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی اتحاد کے نتیجے میں گزشتہ چار سالوں میں تین وزرائے اعظم تبدیل ہو چکے ہیں اور اب چوتھی تبدیلی کا امکان سامنے ہے۔ ابتدا میں عبدالقیوم نیازی وزیر اعظم بنے، جنہیں 2022 میں اپنی ہی پارٹی کے اندر اختلافات کے بعد ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ سردار تنویر الیاس نے سنبھالی۔ 2023 میں عدالتی فیصلے کے نتیجے میں تنویر الیاس کو نااہل قرار دے دیا گیا اور ان کی جگہ چوہدری انورالحق کو وزیر اعظم منتخب کیا گیا۔ یہ تمام تبدیلیاں ’’ان ہاؤس‘‘ تبدیلیوں کے ذریعے ہوئیں، یعنی نئے انتخابات کے بغیر صرف اسمبلی کے اندر نمبروں کے کھیل سے حکومتیں بدلیں۔ یہی وہ کھیل ہے جو اب ایک بار پھر کھیلا جا رہا ہے۔
پیپلز پارٹی نے اپنی حکمتِ عملی کے تحت فارورڈ بلاک اور ہمیشہ موسمی پرندوں کی طرح ادھر اُدھر اڑنے والے ارکان کو ساتھ ملا کر نئی حکومت تشکیل دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں پارٹی قیادت، خصوصاً فریال تالپور کی جانب سے ایک اہم عشائیہ دیا گیا جس میں فارورڈ بلاک کے ارکان نے شرکت کی۔ ان ارکان نے قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ نئی حکمتِ عملی کی حمایت کریں گے۔ یہ ارکان پہلے بھی مختلف اوقات میں مختلف پارٹیوں کے قائدین پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں، ہوا بدلنے پر چھوڑ چکے ہیں اور یقینا آئندہ بھی یہی کریں گے۔ بظاہر اسے جمہوریت کی فتح کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر حقیقت میں یہ اسی پرانے سیاسی کلچر کا تسلسل ہے جس نے پاکستان میں جمہوریت کو جڑیں پکڑنے نہیں دیں۔ فارورڈ بلاکس، وفاداریاں تبدیل کرنے والے ارکان اور پس پردہ سودے بازیوں کا کلچر پاکستانی سیاست میں کوئی نیا نہیں۔ آزاد کشمیر میں یہ روایت وفاقی سیاسی منظرنامے کی عکاسی ہے۔ سیاسی وفاداریاں اصولوں پر نہیں بلکہ مفادات پر بنتی اور ٹوٹتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں عوامی مینڈیٹ کے بجائے ’’گنتی کے کھیل‘‘ پر کھڑی ہوتی ہیں اور چند اراکین کا جھکاؤ حکومت کے تخت یا تختہ کا فیصلہ کرتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں حکومتوں کی تبدیلی کا یہ طرز نیا نہیں۔ 1947 سے اب تک سیاسی حکومتوں کو ہٹانے کا سلسلہ زیادہ تر غیر آئینی یا دباؤ کے ذریعے ہی چلا ہے۔ 1953 میں خواجہ ناظم الدین کی حکومت کا خاتمہ اور مولوی تمیز الدین خان کیس کے ذریعے اسمبلی کی تحلیل نے جمہوری ڈھانچے کو پہلی بڑی ضرب دی۔ 1958 میں ایوب خان نے مارشل لا لگا کر جمہوری عمل کو منجمد کر دیا۔ 1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی صوبائی حکومت کو برطرف کیا اور خیبر پختونخوا (سابقہ این ڈبلیو ایف پی) میں گورنر راج نافذ ہوا، جو مرکز کے ذریعے صوبائی حکومتوں کو کمزور کرنے کی ایک واضح مثال تھی۔ 1977 میں جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا نافذ کیا، جس کے بعد صدارتی اختیارات (آرٹیکل ۵۸(۲)(ب)) کے تحت منتخب حکومتیں بار بار برطرف ہوئیں۔ 1999 میں پرویز مشرف کے مارشل لا کے بعد 2008 میں جمہوری عمل بحال ہوا لیکن طاقت کا مرکز بدستور پس پردہ رہا۔ 2018 میں بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی کو مقتدر حلقوں کی سرپرستی میں لا کر منتخب حکومت گرائی گئی۔ 2022 میں عمران خان کو تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے سے ہٹایا گیا، جو پاکستانی سیاست میں ایک نیا باب تھا۔ تاہم، مجموعی طور پر پاکستان کی سیاسی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ حکومتوں کی اکثریت یا تو عدالتی فیصلوں، صدارتی اختیارات یا عسکری مداخلت کے ذریعے بدلی گئی ہے، جبکہ حقیقی پارلیمانی انداز میں بہت کم تبدیلی ہوئی ہے۔
پاکستانی سیاست میں فارورڈ بلاکس اور وفاداریاں تبدیل کرنے والے ارکان کا کردار ہمیشہ سے ایک ناسور کی طرح رہا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اصولی موقف کے بجائے ذاتی مفاد، مالی لالچ یا دباؤ کے تحت جماعتیں بدلتے ہیں۔ انہی کے فیصلے حکومتیں بناتے اور گراتے ہیں، اور عوام کا سیاسی نظام پر اعتماد کمزور ہوتا جاتا ہے۔ یہی وہ رجحان ہے جو آج آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر نظر آ رہا ہے۔ ماضی میں تقریباً ہر سیاسی جماعت نے اس کھیل میں حصہ لیا۔ 1988 میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد بنایا گیا جسے مقتدر قوتوں کی حمایت حاصل تھی۔ بعد میں مسلم لیگ ن جب اقتدار میں آئی تو اس نے بھی انہی حربوں کا استعمال کیا جن پر وہ ماضی میں تنقید کرتی رہی تھی۔ 2002 میں مسلم لیگ ق نے آزاد امیدواروں کو خرید کر حکومت بنائی۔ 2018 میں تحریک انصاف نے مرکز اورصوبوں میں جرنیلوں اور عدلیہ کی مد د سے انتخابات میں تاریخی دھاندلی اور پھر لالچ دیکر آزاد ارکان اور فارورڈ بلاک کو ساتھ ملا کر اقتدار سنبھالا۔ اسی طرح 2024 کے انتخابات پر بھی بہت سارے سوالات ہیں۔ یعنی ہر جماعت وہی کھیل کھیلتی ہے جس پر وہ ماضی میں واویلا کرتی ہے۔
دنیا کی مستحکم جمہوریتوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک میں اگر کوئی حکومت اکثریت کھو دیتی ہے تو نہ فارورڈ بلاک بنتے ہیں، نہ سودے بازی ہوتی ہے۔ سیدھا نئے انتخابات کرائے جاتے ہیں تاکہ عوام فیصلہ کریں کہ وہ کس پر اعتماد کرتے ہیں۔ وہاں اگر کوئی رکن اپنی پارٹی پالیسی سے اختلاف کرے تو یا تو استعفیٰ دیتا ہے یا اگلے انتخابات کا انتظار کرتا ہے۔ یہی طرزِ سیاست ان ملکوں کو مستحکم جمہوریت بناتا ہے۔
پاکستان میں اگر جمہوریت کو مستحکم بنانا ہے تو سب سے پہلے لوٹوں اور فارورڈ بلاکس کے کلچر کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا۔ جو شخص اپنی جماعت چھوڑے، اس پر اسمبلیوں کے دروازے بند ہونے چاہئیں۔ سیاسی جماعتوں کو اقتدار کے لیے جوڑ توڑ کے بجائے اصولی سیاست اپنانا ہوگی۔ اگر کوئی حکومت اکثریت کھو دیتی ہے تو پس پردہ سودے بازی کے بجائے شفاف نئے انتخابات کرائے جائیں تاکہ فیصلہ عوام کریں، نہ کہ طاقتور حلقے یا لالچ، دھونس اور دھاندلی سے کام لیا جائے۔ یہی واحد راستہ ہے جو جمہوریت کو مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ یہ پیغام خاص طور پر پیپلز پارٹی کے لیے اہم ہے، یہ جماعت ماضی میں کئی بار انہی حربوں کا نشانہ بن چکی ہے۔ اگر وہی جماعت آج انہی ہتھکنڈوں کا استعمال کرے تو یہ جمہوری نظام کو مزید کمزور کرے گا۔ سیاسی جماعتوں کو سمجھنا ہوگا کہ جو کھیل آج وہ کھیل رہی ہیں، کل انہی کے خلاف ہوگا۔ وقتی اقتدار جوڑ توڑ سے حاصل ہو سکتا ہے، سیاسی استحکام نہیں۔
یہی وقت ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی روش بدلیں اور عوام کے مینڈیٹ کا احترام کریں۔ اقتدار کے لیے لوٹوں کو ساتھ ملانے، فارورڈ بلاک بنانے اور پس پردہ سودے بازی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ یہی راستہ جمہوریت کو مستحکم بنا سکتا ہے اور پاکستان کو اس سیاسی جمود سے نکال سکتا ہے جس نے اسے دہائیوں سے جکڑ رکھا ہے۔ جب تک اس روش میں تبدیلی نہیں آئے گی، سیاسی نظام کمزور ہی رہے گا اور عوام کا اعتماد مزید متزلزل ہوتا جائے گا۔ اور اگر سیاسی جماعتیں اپنا راستہ تبدیل نہیں کرتیں تو پھر انہیں ہر وقت جمہوریت، آئین اور قانون کی پاسداری کا راگ الاپنا چھوڑ دینا چاہیے، کیونکہ باتوں سے نظام نہیں بنتا — اصولی فیصلوں سے تاریخ بدلتی ہے۔

