مظفرآباد (نمائندہ خصوصی،رائٹرز، عرب نیوز)آزاد جموں و کشمیر میں جاری حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران کم از کم 6 مظاہرین اور 3 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے، جبکہ سیکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ اس دوران مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی، اور جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں۔ حکومت نے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ پرامن مذاکرات کی جانب واپس آئیں۔
آزاد جموں و کشمیر کے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ (PID) کے مطابق گزشتہ تین دن کے احتجاج میں 6 شہری اور 3 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ تقریباً 172 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے 12 کی حالت تشویشناک ہے۔ مزید 50 شہری بھی زخمی ہوئے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کے رکن سید حفیظ حمدانی نے دعویٰ کیا کہ 12 مظاہرین ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے مطالبات قبول نہ کیے جانے کی وجہ سے مظاہرے جاری ہیں۔
AJK کے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق نے کہا کہ حکومت مظاہرین سے مذاکرات کیلئےتیار ہے اور جائز مطالبات کو جلد حل کیا جائیگا۔ انہوں نے زور دیا کہ تشدد کا راستہ صرف انسانی جانوں کے نقصان کی طرف لے جائیگا۔
آزاد کشمیر میں مئی 2024 میں بھی احتجاجی مظاہروں کی ایک لہر نے خطے کو مفلوج کر دیا تھا۔ چھ روزہ ہڑتال اور پرتشدد جھڑپوں کے بعد وزیراعظم نے 23 ارب روپے ($86 ملین) کی سبسڈی کی منظوری دی اور اشرافیہ کے مراعات کی جانچ کیلئےعدالتی کمیشن قائم کیا۔ مظاہرین نے اس وقت احتجاج معطل کر دیا تھا، مگر خبردار کیا تھا کہ پیکیج پر عمل نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ احتجاج ہوگا۔

