آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے 3 مئی کو انتخابات کا اعلان کر دیا

کینبرا (نامہ نگار)اینٹونی البانیز نے 3 مئی کو وفاقی انتخابات کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت آسٹریلوی عوام پانچ ہفتوں سے کچھ زائد عرصے میں اگلی پارلیمنٹ کیلئے ووٹ ڈالیں گے۔

انتخابی عمل کا آغاز جمعہ کی صبح 7 بجے سے کچھ پہلے ہوا، جب وزیر اعظم البانیز کو کینبرا میں اپنی سرکاری رہائش گاہ “دی لاج” سے گورنر جنرل سیم موسٹن سے پارلیمنٹ کی تحلیل کی درخواست کرنے کیلئے روانہ ہوتے دیکھا گیا۔

مسٹر البانیز نے اس انتخاب کو “لیبر کے ترقیاتی منصوبے اور پیٹر ڈٹن کے کٹوتیوں کے وعدے کے درمیان ایک انتخاب” قرار دیا، اور 3 مئی کی تاریخ سے پہلے حکومت کے اہم نکات واضح کیے۔

انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “غیر یقینی حالات میں، ہم ان چیلنجز کا انتخاب نہیں کر سکتے جن کا ہمیں سامنا ہوگا، لیکن ہم یہ ضرور طے کر سکتے ہیں کہ ہم ان کا سامنا کیسے کریں گے۔”

“ہماری حکومت نے عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئےآسٹریلوی طریقہ اپنایا ہے – مہنگائی کے دباؤ میں گھرے لوگوں کی مدد کرنا اور مستقبل کی تعمیر جاری رکھنا۔”

انہوں نے لیبر پارٹی کو آسٹریلیا کو متحد کرنے والی جماعت قرار دیا اور اتحاد کو “کم اہداف طے کرنے” اور “نیچا دیکھنے” کا طعنہ دیا۔

“وزیر اعظم کے طور پر آپ کی خدمت کرنا میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہے، اور مجھے ہر روز یہی عزم متحرک رکھتا ہے کہ میں آسٹریلیا کے عوام کے شایانِ شان مستقبل کی تعمیر کروں،” البانیز نے کہا۔

“یہ ترقی کا وقت ہے ، ہماری قومی طاقتوں پر، ہماری سلامتی اور خوشحالی پر، اور ایک ایسے آسٹریلیا کی تعمیر پر جہاں کسی کو پیچھے نہ چھوڑا جائے۔”

البانیز نے اعتراف کیا کہ ان کی حکومت نے اپنی پہلی مدت میں بہت کچھ حاصل کیا، لیکن انہوں نے دوسری مدت کیلئے مینڈیٹ مانگا تاکہ “ترقیاتی کام جاری رکھے جا سکیں”۔

انہوں کا دعویٰ تھا کہ ” تین سالوں میں، لبرلز اور نیشنلز نے ہر اس اقدام کی مخالفت کی جو ہم نے عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے نکالنے کیلئے کیا۔ اگر لبرلز کو موقع ملا، تو آپ اور آپ کے اہلِ خانہ مزید مشکلات میں ہوں گے۔”

انتخابی مہم کا آغاز ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اپوزیشن لیڈر پیٹر ڈٹن نے اپنے بجٹ جواب میں ایندھن کی ایکسائز کو آدھا کرنے کا اعلان کیا، جس سے خاندانوں کو ہر گاڑی پر تقریباً 750 ڈالر کی بچت ہوگی۔یہ اقدام لیبر حکومت کے 2026 میں نافذ ہونے والے ہفتہ وار 5 ڈالر کے ٹیکس کٹوتی منصوبے سے متصادم ہے۔

لیبر پارٹی کو دوسری مدت کیلئے اقتدار میں رہنے کے لیے 150 نشستوں والی پارلیمنٹ میں کم از کم 76 نشستیں درکار ہوں گی۔اس وقت، لیبر کے پاس 78 نشستیں ہیں، لیکن میلبورن کی ہِگنز سیٹ کے خاتمے کے بعد یہ تعداد 77 رہ جائے گی۔

اتحاد (لبرلز اور نیشنلز) کے پاس اس وقت 55 نشستیں ہیں، اور انہیں اکثریت کیلئے21 اضافی نشستوں کی ضرورت ہوگی۔آزاد ارکان اور دیگر جماعتوں پر مشتمل 19 رکنی کراس بینچ بھی انتخابی دوڑ میں اہم کردار ادا کرے گا، جس میں گرینز پارٹی کے 4 ارکان، 13 آزاد امیدوار، اور 2 دیگر اراکین شامل ہیں۔

ملک میں مہنگائی، بڑھتی ہوئی شرحِ سود، اور رہائش کی قلت جیسے مسائل حکومت کی مقبولیت کو کم کر رہے ہیں، اور ووٹرز ممکنہ طور پر انتخابات میں ان مسائل پر اپنے غصے کا اظہار کریں گے۔

تازہ ترین نیوزپول (24 مارچ) کے مطابق، اتحاد (لبرلز و نیشنلز) نے 51-49 کی برتری حاصل کر لی ہےلیکن وزیر اعظم کی حیثیت سے عوامی حمایت میں البانیز 47 فیصد کے ساتھ اب بھی پیٹر ڈٹن (38 فیصد) سے آگے ہیں، جبکہ 15 فیصد ووٹرز غیر یقینی ہیں۔

اس بار انتخابات میں نصف سے زیادہ حلقوں کی نئی حد بندی کی گئی ہے، جس کی وجہ سے ماضی کے نتائج کی بنیاد پر پیشگوئیاں کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

2024 کی حلقہ بندی میں، شمالی سڈنی (NSW) اور ہگنز (وِکٹوریا) کی نشستیں ختم کر دی گئی ہیں، جبکہ ویسٹرن آسٹریلیا میں ایک نیا حلقہ “بُل وِنکل” تخلیق کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ، ویسٹرن آسٹریلیا کے مویشی پالنے والے حکومت کی جانب سے 2028 تک سمندری راستے سے زندہ بھیڑوں کی برآمد پر پابندی کے قانون کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جو انتخابی مہم پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اس انتخاب میں سینیٹ کی 76 میں سے 40 نشستیں بھی زیرِ بحث ہوں گی۔

اس وقت لیبر کے پاس 25 سینیٹ نشستیں ہیں، جبکہ اتحاد کے پاس 30 نشستیں ہیں، اور انہیں سابق لبرل اراکین ڈیوڈ وین اور جیرارڈ رینک کی نشستیں واپس حاصل کرنے کی امید ہے۔

سینیٹ کے نمایاں امیدواروں میں پالین ہینسن، جیکی لیمبی، لیدیا تھورپ اور فاطمہ پیمن شامل ہیں، جن کا انتخابی مستقبل بھی داؤ پر لگا ہے۔

ہاؤس آف ریپریزنٹیٹیوز کے برعکس، سینیٹ کے نئے اراکین یکم جولائی سے حلف اٹھائیں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، آسٹریلیا میں اقلیتی حکومت (Minority Government) بننے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی جماعت کو مکمل اکثریت حاصل کرنے کیلئےکراس بینچ کے اراکین کی حمایت درکار ہوگی۔

یہ انتخابات نہ صرف مہنگائی اور معاشی حالات پر عوامی رائے کا اظہار ہوں گے بلکہ یہ فیصلہ بھی کریں گے کہ آیا لیبر پارٹی اپنی ترقیاتی پالیسیوں کو جاری رکھ سکتی ہے یا پھر اتحاد کی کٹوتیوں پر مبنی پالیسی عوام کی حمایت  حاصل  کر لے گی.

اپنا تبصرہ لکھیں