قران کے سورۃ المائدہ کی آیت 51 بین الاقوامی تعلقات کی اخلاقی و سٹریٹیجک بنیادوں کے لیے ایک پائیدار اصول فراہم کرتی ہے۔ اس آیت میں واضح طور پر کہا گیا ہے: “يَا أَيُّهَا ٱلَّذِينَ آمَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا ٱلۡيَهُودَ وَٱلنَّصَارَىٰ أَوۡلِيَآءَ ۘ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍۢ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمۡ فَإِنَّهُۥ مِنۡهُمۡ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ”. میں کوئی مذہبی عالم نہیں مگر سوالات اٹھاتا ہوں اور سوچتا ہوں۔ اس لیے محسوس کیا کہ اس آیت کا محض لغوی ترجمہ کرنا اس کے گہرے سٹریٹیجک اور خارجہ پالیسی کے مفہوم کو کم کر دیتا ہے۔

یہاں “اَوْلِيَآءَ” کا مفہوم صرف دوستی یا خیر خواہی نہیں، بلکہ وہ سیاسی، عسکری، اور انتظامی اطاعت و انحصار ہے جو کسی قوم کو دوسری قوم کا تابع اور دست نگر بنا دیتی ہے۔ اور یہی وہ تعلق ہے جو جدید استعماریت یا نیوکولونیل ازم (neo-colonialism) کی بنیاد ہے، جس کے تحت طاقتور قومیں اقتصادی معاہدات، سیکیورٹی پارٹنرشپس، اور ثقافتی نفوذ کے ذریعے کمزور ریاستوں پر بالواسطہ تسلط قائم کرتی ہیں۔
ابراہم اکارڈز اسی نیوکولونیل پالیسی کی ایک تازہ مثال ہے، جو بظاہر “امن” اور “تعاون” کی بنیاد پر اسرائیل کو عرب دنیا میں اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں وہ نہ صرف ایک “سٹریٹجک پارٹنر” بلکہ ایک “مولا” (بالادست اتحادی) کے درجے پر فائز ہو جاتا ہے۔ ان اکارڈز (معاہدوں) کے تحت نہ صرف اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے گئے بلکہ دفاعی تعاون، انٹیلیجنس شیئرنگ، جدید ٹیکنالوجی کی شراکت، مشترکہ زرعی و آبی منصوبے، اور بعض صورتوں میں ثقافتی و مذہبی سطح پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے رجحانات کو تقویت ملی۔

ابراہم اکارڈز کی یہ تمام شقیں قرآنی حکم “لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ” کے براہِ راست منافی ہیں، کیونکہ ان کا مقصد ہی اسرائیل کو عرب دنیا کے لیے ناگزیر اور مرکزی قوت کے طور پر پیش کرنا ہے، یعنی اسے ایک بالادست “مولا” میں تبدیل کر دینا۔
نوآبادیاتی نظریہ کے بڑے ناقد فرینز فینن (Frantz Fanon) اپنی کتاب The Wretched of the Earth میں لکھتے ہیں کہ نوآبادیاتی ذہنیت کمزور اقوام کے ذہن میں طاقتور ریاستوں کے ساتھ الحاق کو ترقی کا مترادف بنا کر پیش کرتی ہے۔ یہی ذہنیت آج ان عرب ریاستوں میں دکھائی دیتی ہے جو اسرائیل کے ساتھ الحاق کو “جدیدیت”، “ٹیکنالوجی” اور “ترقی” کے نام پر جائز قرار دے رہی ہیں، مگر دراصل وہ اپنے دفاع، خودمختاری اور فلسطینی عوام کی آزادی کو گروی رکھ کر ایک استعماری ریاست کی بالادستی تسلیم کر رہی ہیں۔
ایڈورڈ سعید (Edward Said) کے بقول، استعماریت صرف زمین پر قبضہ نہیں کرتی بلکہ فکر، زبان اور شناخت پر بھی غلبہ حاصل کرتی ہے (Culture and Imperialism, 1993)۔ ابراہام اکارڈز میں بھی صرف فوجی یا سفارتی معاملات طے نہیں ہوتے، بلکہ ایک بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں اسرائیل کو خطے کی “امن کا محور” ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے اور فلسطینی مزاحمت کو “دہشتگردی” قرار دیتا ہے۔ یہ بالکل وہی بیانیہ ہے جس کے خلاف قرآن متنبہ کرتا ہے کہ جو اقوام باطل طاقتوں کو اپنا “مولا” بنا لیتی ہیں، وہ انہی کا حصہ بن جاتی ہیں، یعنی بقول قران “فَإِنَّهُۥ مِنْهُم”۔
سیاسی طور پر یہ بات اہم ہے کہ اسرائیل نہ صرف ایک قابض ریاست ہے بلکہ اسے امریکہ کے تشکیل کردہ عالمی سیکیورٹی نظام میں اس طرح ضم کر دیا گیا ہے کہ وہ امریکہ کی نیوکولونیل پالیسیوں کا ایک “فارورڈ آپریٹنگ اتحادی” (Forward Operating Ally) بن چکا ہے دوسرے لفظوں میں اسرائیل اس خطے میں امریکی اقتصادی، عسکری اور سٹریٹجک مفادات کا علاقائی تھانیدار ہے اور اس سے معاہدہ کرنے کا مطلب ہے کہ خطے کا ایک مسلم ملک اسرائیل کو اپنی “ولی” یا “مولا” مان رہا ہے اور اسرائیل امریکہ کو اپنا “ولی”اور “مولا” تسلیم کرتا ہے۔
خطے میں امریکی افواج کے سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) میں اس کی شمولیت، خلیجی دفاعی نظام میں اس کے انٹیلیجنس نیٹ ورک، اور بحرین، متحدہ عرب امارات و سعودی عرب سے اس کے تعلقات اس کی واضح مثالیں ہیں۔ ان تعلقات کا نتیجہ فلسطینی مزاحمت کی بین الاقوامی سطح پر تنہائی، عرب ریاستوں کی اخلاقی پسپائی، اور خطے کی خودمختاری کا زوال ہے۔
اسی پس منظر میں ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ قران کی اس آیت کا خطاب براہِ راست “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا” کے ذریعے اُن ریاستی اور سیاسی اکائیوں سے ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتی ہیں اور جن کی خارجہ پالیسی کسی نظریاتی یا دینی شناخت کی بنیاد پر استوار ہونی چاہیے۔ یہاں قرآن ایک اصولی اور سٹریٹیجک وارننگ دیتا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا “اَوْلِيَاءَ” یعنی مولا، سرپرست، محافظ یا بالادست اتحادی نہ بناؤ، کیونکہ وہ خود ایک دوسرے کے ولی اور حلیف ہیں۔ جو شخص یا ریاست ان کے ساتھ اس نوعیت کی اطاعت و شراکت اختیار کرے گا، وہ خود انہی میں شمار ہوگا۔
تاریخی طور پر استعماریت کی شناخت منظم اور جارح مذاہب کے انداز میں بیان کی جاتی تھی نہ کہ سیکیولر زبان میں۔ مثلاً مکے کے مشرکین یا کفار اپنے وقت کی استعماری طاقتیں تھیں۔ اسی طرح جب یہ آیت نازل ہوتی ہے تو مدینے میں یہودی ایک طاقتور سرمایہ دار قوت تھے۔ اور مذہب اُن کی شناخت تھی۔ لہٰذا اُنھیں اُن کی شناخت ہی کے ذریعے مخاطب کیا گیا، حالانکہ قران تمام اہلِ کتاب سے اچھے طریقے سے معاملات طے کرنے کا کہتا ہے، لیکن اس آیت میں خاص تاکید کرتا ہے کہ یہودیوں اور نصاریٰ کو اپنے اولیا یا “مولا” مت بناؤ۔
“ابراہم اکارڈز” کے تحت کئی عرب ریاستوں نے اسرائیل کے ساتھ نہ صرف سفارتی بلکہ سیکورٹی، اقتصادی، انٹیلیجنس، ٹیکنالوجی، اور سماجی سطح پر وہ تعلقات قائم کیے جو ایک “مولا” اور اس کے تابع ریاست کے درمیان ہوتے ہیں۔ ایسے معاہدے صرف دوطرفہ برابری کی سطح کے سفارتی تعلقات نہیں ہوتے ہیں، بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی اس گریٹر مڈل ایسٹ پالیسی کا حصہ ہیں جو خطے میں اسرائیل کو بالادستی دلوانا اور عرب ریاستوں کو نیو-کولونیل سیکیورٹی سٹیٹز (security states) میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔
سنہ 2020 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں سسرال کے تسلط کو ریجنل بلاک کے ذریعے ایک قانونی شکل دینے کے لیے “ابراہم اکارڈز” نام معاہدوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ 2025 تک، جن عرب مسلم ممالک نے اسرائیل کے ساتھ ابراہام اکارڈز کے تحت باضابطہ تعلقات قائم کیے ہیں، ان میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش شامل ہیں۔ مصر اور اردن پہلے ہی بالترتیب 1979 اور 1994 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کر چکے ہیں اور مکمل سفارتی تعلقات رکھتے ہیں۔
کچھ دیگر عرب ممالک اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے بغیر اس کے ساتھ بالواسطہ یا خاموش تعلقات رکھتے ہیں، جن میں سعودی عرب شامل ہے جو سلامتی اور انٹیلی جنس کے میدان میں اسرائیل سے تعاون کرتا ہے اور ان رابطوں کے بارے میں کئی مرتبہ خبریں بھی شائع ہو چکی ہیں؛ عمان جو محتاط مگر مسلسل سفارتی رابطے رکھتا ہے؛ قطر جو غزہ کے معاملات پر اسرائیل سے عملی رابطے میں رہتا ہے؛ اور موریطانیہ جس نے ماضی میں سفارتی تعلقات قائم کیے تھے اور اب بھی محدود غیر رسمی روابط رکھتا ہے۔ حال ہی میں شام بھی ابراہام اکارڈز میں دلچسپی ظاہر کر رہا ہے۔
ابراہام اکارڈز کے ذریعے عرب ریاستوں سے تعلقات کا یہ وہی تصور ہے جو استعماریت کے خلاف متحرک فرانسیسی دانشور فرانز فینن (Frantz Fanon) نے اپنی مشہور تصنیف “افتادگانِ خاک”
(The Wretched of the Earth)
میں یوں بیان کیا:
“استعماریت (Imperialism) اپنے پیچھے سڑاند کے جراثیم چھوڑ جاتی ہے، جنہیں ہمیں نہ صرف اپنی سرزمین سے بلکہ اپنے اذہان سے بھی سائنسی انداز میں پہچان کر نکال باہر کرنا چاہیے۔”
(Imperialism leaves behind germs of rot which we must clinically detect and remove from our land but from our minds as well.)
فینن کا استدلال تھا کہ استعماری طاقتیں صرف زمین پر نہیں، ذہنوں پر بھی قبضہ کرتی ہیں۔ اسی لیے قرآن صرف سیاسی اتحاد کی بات نہیں کر رہا، بلکہ ایک فکری آزادی کی شرط بھی عائد کر رہا ہے: جس نے ان کو اپنا “مولا” یا “ولی” بنایا، وہ انہی میں سے ہو گیا۔
یہی قرآن کا اصولی دعویٰ ہے: کہ جس قوم نے اپنے فیصلے کسی غیر کی مرضی سے جوڑ دیے، وہ اپنی قومی شناخت کھو دیتی ہے۔
افریقی رہنما تھامس سانکارا (Thomas Sankara)، جو برکینا فاسو کے پہلے انقلابی صدر تھے، انھوں نے اقوام متحدہ میں اپنی تاریخی تقریر (1984) میں کہا تھا:
“ قرض افریقہ پر دوبارہ قبضے کا مکاری سے بنایا گیا ایک منصوبہ ہے۔ یہ نوآبادیاتی تسلط (Neo-colonialism) کی ایسی شکل ہے جس میں ہماری معیشتیں اور پالیسیاں باہر سے آنے والے لوگ طے کرتے ہیں۔”
(Debt is a cleverly managed reconquest of Africa. It is a form of neo-colonialism in which our economies and policies are dictated by outsiders.)
ان کی اس بات کی بنیاد قرآن کی اُس آیت میں موجود ہے، جو ہمیں خبردار کرتی ہے کہ اگر کوئی تمہیں قرض، معاہدے یا سیکیورٹی کے نام پر فیصلہ سازی، تحفظ، اتحاد اور پالیسی کے معاملات میں دوسروں کا تابع بنا دے، تو وہ دراصل تمہیں غلام بنا رہا ہے۔
“وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمۡ فَإِنَّهُۥ مِنۡهُم” کے قرآنی نکتے کو سیکیولر زبان میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ جو استعمار کے ساتھ شراکت اختیار کرے، وہ خود استعمار کا ایجنٹ بن جاتا ہے۔ انڈیا کے نوآبادیاتی دور میں علامہ اقبال بھی اسی بات کا انتباہ کرتے ہیں کہ استعمار کے ایجنٹ غلامی کے جواز کے لیے تاویلیں بناتے ہیں:
کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند
تاویلِ مسائل کا بناتے ہیں بہانہ
“ابراہام اکارڈز” کے ذریعے عرب ریاستیں اسرائیل کو وہ مقام دے رہی ہیں جو قرآن نے ممنوع قرار دیا ہے — یعنی “مولا” اور “حاکم”۔ یہ صرف سیاسی یا سفارتی اطاعت نہیں، بلکہ نظریاتی خودسپردگی (ideological submission) ہے۔ ان معاہدات کی ایسی شقیں ہیں جن کے تحت عرب ریاستیں:
*اسرائیل کے ساتھ انٹیلیجنس شیئرنگ اور دفاعی تعاون کے معاہدے کرتی ہیں، جس سے ان کے داخلی دفاعی نظام اسرائیلی سسٹمز پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔
*اسرائیلی ٹیک کمپنیاں ان ریاستوں کے سوشل میڈیا، نگرانی (surveillance) اور ڈیجیٹل سیکیورٹی نظام میں شامل ہو چکی ہیں، جو ڈیٹا اور پرائیویسی کی خودمختاری کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔
*اسرائیل کو خلیجی منڈیوں، سرمائے اور ہوائی راستوں تک بلاشرط رسائی حاصل ہو گئی ہے، جو ایک نیو-کولونیل اقتصادی انحصار پیدا کر رہا ہے۔
یہ تمام عوامل استعماریت کے وہی ہتھکنڈے ہیں جو پہلے برطانیہ، فرانس، اور امریکا نے افریقہ اور ایشیا میں اختیار کیے تھے۔ آج وہی حکمت عملی، نئے چہروں اور نئے بیانیوں کے ساتھ، “امن” اور “جدیدیت” کے نام پر دوبارہ نافذ کی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے نظریہ ساز سٹیفن والٹ (Stephen Walt) اپنی تحریر “دی ہیل آف گُڈ انٹینشن” (The Hell of Good Intentions) میں واضح کرتے ہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی کی اصل ترجیح عالمی نظام کو ایک “شکل دینا” ہے، نہ کہ اس میں برابری پیدا کرنا۔ ان کے بقول، امریکی پالیسی ساز اکثر انسانی حقوق اور امن کے نام پر ایسے اتحاد بناتے ہیں جن کا مقصد درحقیقت امریکی ملٹری-اکنامک سٹریٹجک مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ “ابراہام اکارڈز” بھی اسی نوعیت کے معاہدے ہیں جن کے ذریعے اسرائیل کو خطے میں امریکی نیابتی “پراکسی ہیجیمون” (proxy hegemon) کے طور پر آگے لایا گیا ہے یعنی ایسی ریاست یا طاقت جو امریکہ کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں بالادستی قائم رکھتی ہے، گو کہ یہ بظاہر خود مختار ریاست ہے لیکن اصل میں وہ خطے میں امریکی مفادات کی محافظ ایجنٹ ہے۔
ایڈورڈ سعید نے “اوریئنٹلزم” (Orientalism) اور بعد ازاں “کلچر اینڈ امپیریلزم” (Culture and Imperialism) میں یہ مدلل بات کہی تھی کہ مشرقی ریاستوں کو جدیدیت اور ترقی کے جھانسے میں ڈال کر مغربی طاقتیں ان کی فکری خودمختاری کو کھا جاتی ہیں۔ آج یہی صورتحال متحدہ عرب امارات، بحرین اور سعودی عرب جیسے ممالک کی ہے، جو اسرائیل کے ساتھ ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی، اور زرعی تعاون کے نام پر اپنی اسٹرٹیجک خودمختاری اور حتیٰ کہ مذہبی بیانیہ بھی اسرائیلی بیانیے کے تابع کر رہے ہیں۔
عالمی شہرت یافتہ بائیں بازو کے دانشور، نوم چومسکی (Noam Chomsky)، جو امریکی خارجہ پالیسی کے شدید ناقد ہیں، بارہا اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی موجودگی کا اصل مقصد “سیکیورٹی” (security) نہیں بلکہ “سٹریٹجک تسلط” (strategic dominance) ہے۔ ان کے مطابق:
“سیکیورٹی کا مطلب دراصل یہ ہوتا ہے کہ تیل، زمین اور سیاسی فرمانبرداری پر کنٹرول حاصل کیا جائے۔”
(Security is a code word for control — of oil, of territory, and of political compliance. — Hegemony or Survival)
اسرائیل کے ساتھ عرب اتحاد، اسی “تابعداری” (compliance) کو ممکن بناتا ہے، جسے قرآن ظلم کہتا ہے: “إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ”۔
“ابراہام اکارڈز” صرف معاہدات نہیں، بلکہ نیو-کولونیل ازم (neo-colonialism) کی واضح عملی مثال بن ہیں۔ کوسنے نکروما (Kwame Nkrumah)، جو افریقہ کے نوآبادیاتی دور کے بعد کے اولین رہنما تھے، اپنی معروف کتاب “نیوکولونئیلزم: فی لاسٹ سٹیج آف امپیریئلزم” (Neo-Colonialism: The Last Stage of Imperialism) میں لکھتے ہیں کہ:
“نیوکولونیئلزم یا نوآبادیاتِ جدید (Neo-colonialism) کی اصل حقیقت یہ ہے کہ جس ریاست کو اس کا نشانہ بنایا جاتا ہے، وہ بظاہر تو آزاد ہوتی ہے اور بین الاقوامی خودمختاری کی تمام علامتیں رکھتی ہے، لیکن درحقیقت اس کا معاشی نظام اور اس کے نتیجے میں اس کی سیاسی پالیسی بیرونی طاقتیں طے کرتی ہیں۔”
(The essence of neo-colonialism is that the state which is subject to it is, in theory, independent and has all the outward trappings of international sovereignty. In reality, its economic system and thus its political policy is directed from outside.)
آج ابراہام اکارڈز کی رکن ریاستوں یا اس سے اتفاق کرنے والی بادشاہتوں کے اسرائیل کے ساتھ دفاعی اتحاد، امریکی پالیسیوں سے آزاد نہیں بلکہ انہی کی ہدایت پر استوار ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے کسی نوآبادیاتی محکوم ریاست کے طاقتور حاکم ریاست کے ساتھ ہوتے ہیں۔
اس خطے کی مسلم ریاستوں نے بیسویں صدی میں استعمار کے خلاف جو مزاحمت کی، آج وہی مزاحمت ابراہام اکارڈز میں شامل ہو کر خود اپنے ہی دستخط سے منسوخ کر رہے ہیں۔ فلسطین، جو ہر عرب ریاست کے قومی اور آئینی بیانیہ میں ایک اصولی کاز تھا، اب اسرائیلی بالا دستی کے مفادات کے تحت حاشیے پر جا چکا ہے۔ اس عمل کے تحت نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ پورا مسلم ورلڈ ایک ایسی سٹریٹیجک کمزوری میں پھنس گیا ہے جہاں اس کی داخلی، دفاعی اور نظریاتی خودمختاری رفتہ رفتہ ختم ہو رہی ہے۔ اب پرانی استعماریت کے دور کی طرح ایک قابض طاقت محکوم لوگوں کی پالیسیاں اپنے فائدے کے لیے تشکیل دے رہی ہے۔
“ابراہام اکارڈز” کو اگر قرآن کی روشنی میں دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک سیاسی یا سفارتی انحراف نہیں بلکہ قرآن کی خارجی پالیسی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ آیت 5:51 کسی مخصوص وقت، قوم یا ریاست کے لیے نہیں بلکہ ایک مستقل، آفاقی پالیسی ڈائریکشن ہے۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ جس قوم نے باطل اور ظالم قوتوں کو اپنا “ولی” بنایا، وہ اسی “ولی” کے فکری، تہذیبی، عسکری اور اخلاقی نظام کا تابعدار حصہ بن جائے گی۔ اور یہی ہو رہا ہے۔
شکاگو یونیورسٹی کے عالمی تعلقات کے ماہر پروفیسر جان میئرشائمر نے اپنی تھیوری “ جارحانہ حقیقت پسندی” (Offensive Realism) میں واضح کیا ہے کہ طاقتور ریاستیں ہر وقت اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں، اور کمزور ریاستیں جو اس توسیع پسندی کو روکنے میں ناکام ہو جائیں، وہ بالآخر ان کے تابع ہو جاتی ہیں۔ اسرائیل اس وقت خطے میں وہی “بالادست جارح طاقت” (Offensive Hegemon) ہے، جسے امریکی پشت پناہی اور “ابراہام اکارڈز” جیسی نیو-کولونیل حکمت عملیوں کے ذریعے عرب ریاستوں پر مسلط کیا گیا ہے۔
اس کانٹکسٹ میں سورۂِ المائدہ کی آیت 51 محض مذہبی ہدایت نہیں بلکہ ایک “سٹریٹجک ڈاکٹرین” (strategic doctrine) ہے — ایک خارجہ پالیسی گائیڈ لائن جو ہمیں خبردار کرتی ہے کہ اگر ہم نے دشمن “اَوْلِيَاءَ” کو اپنا سیاسی، عسکری یا اقتصادی اتحادی بنایا، تو ہم دراصل اُسے اپنا “مولا” بنا رہے ہوں گے اور اس طرح اپنی آزادی، نظریہ، قدرتی وسائل و معدنیات، خودمختاری اور ادب و ثقافت — سب کچھ کھو بیٹھیں گے۔
اگر ہم بحیثیت مسلم واقعی قرآن کو آسمان سے نازل شدہ “ہُدًى لِّلنَّاسِ” (ہدایت برائے انسانیت) مانتے ہیں، تو لازم ہے کہ ہم اپنی خارجی پالیسیوں کی تشکیل بھی اس ہدایت کی روشنی میں کریں۔ ورنہ اس روحانی کتاب کو صرف ثواب کے لیے پڑھنا، اور عملی زندگی میں اس کے احکام کی صریح خلاف ورزی کرنا — درحقیقت وہی ظُلم ہے جس کے لیے اللہ کی ہدایت بند کر دی جاتی ہے۔ تب ہم صرف استعمار کے غلام نہیں، قرآن کے باغی بھی ہوں گے۔
لہٰذا، اگرچہ یہ آیت ایک دینی متن ہے، اس کی روح استعماریت کے خلاف ہر اس فکری جدوجہد سے ہم آہنگ ہے جسے دنیا کے حریت پسند مفکرین، سیکیولر انقلابیوں اور مزاحمتی رہنماؤں نے آزادی، حقِّ خودارادیت، نظریاتی وقار اور قومی وسائل کے تحفظ اور انھیں اپنی ترقی کے لیے استعمال کرنے کے مقصد کے لیے اپنایا۔ اور اگر ہم اسے صرف تلاوت اور ثواب سے بڑھ کر ایک عملی رہنمائی کے طور پر قبول کریں تو آج کے نیو-کولونیل عالمی نظام میں یہی آیت خارجہ پالیسی کی سب سے فکری، نظریاتی اور سٹریٹیجک بنیاد فراہم کرتی ہے اور یہ مزاحمت کی سب سے مؤثر تحریک بنتی ہے۔

