اب براہ راست دہشت گردی، محافظوں کا جواب!

اسلام آباد کی ضلع کچہری کے باہر خودکش دھماکے سے جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی وجہ سے دل بہت اداس اور فکر مند ہے کہ اسی روز وانا کے کیڈٹ کالج پر بھی حملہ ہوا، مرکزی گیٹ کے ساتھ بارود والی گاڑی ٹکرائی گئی اور اندر جا کر طلباء کو یرغمال بنانے کی کوشش بھی کی گئی۔ مرکزی گیٹ کے ساتھ بارود بھری گاڑی کے دھماکے سے جہاں کالج کی دیوار کو نقصان پہنچا، وہاں اردگرد کے مکانات بھی متاثر ہوئے اور متعدد شہری زخمی بھی ہوئے۔ دونوں حادثات الگ الگ مقام پر اور الگ الگ انداز سے ہوئے، لیکن انداز ایک سا تھا، ان حملوں کے ذریعے شاید یہ بھی بتانے کی کوشش کی گئی تھی کہ دہشت گرد کسی بھی وقت کسی بھی جگہ اپنی ذہنیت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ اس امر میں کبھی ابہام نہیں تھا کہ یہ سب کارروائیاں کسی محفوظ ٹھکانے اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہیں اور یہ محفوظ ٹھکانے افغانستان میں ہیں۔

ہمارے بعض مفکر تحریک طالبان اور طالبان کو الگ الگ دیکھتے ہیں حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں، دونوں فریق ایک ہی مسلک، ایک ہی عقیدے اور ایک ہی مدرسے کے فارغ التحصیل ہیں، گو تحریک طالبان کے بانی ملا عمر نے طالبان سے پہلے سوات میں اپنے نظریئے کے مطابق ”شریعت نافذ“ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا اور ریاستی طور پر اسے اچھا نہ جانا گیا، ملا عمرسے ایک سے زیادہ بار مذاکرات کے باوجود مسئلہ حل نہ ہوا اور بالآخر حکومت نے اس گروپ کے خلاف کارروائی کی اور ملا عمر گرفتار بھی کرلئے گئے۔ دوسری طرف افغانستان سے روسی افواج کی پسپائی کے بعد ملک کے اندر مستحکم حکومت قائم نہ ہوئی۔ افغان آپس میں برسرپیکار ہو گئے اور اسی لڑائی ہی سے طالبان برآمد ہوئے اور کئی مراحل کے بعد جب امریکی افواج واپس چلی گئیں تو طالبان نے عبوری حکومت قائم کی جواب تک چل رہی ہے حالانکہ معاہدہ یہ تھا کہ افغان طالبان گرینڈ جرگہ بلا کر انتخاب کرائیں گے اور مستقل ڈھانچہ استوار ہوگا لیکن یہ سب خوش فہمی رہی اور ایسا اب تک ممکن نہیں ہوا اور طالبان اپنی حکمرانی چلائے جا رہے ہیں، انہوں نے اپنے عقیدے یامسلک کے مطابق ہم خیال دہشت گرد دھڑوں کو بھی اپنی سرزمین پر پڑاؤ کی اجازت دی، یوں واضح طور پر ان کے درمیان اتفاق و اتحاد موجود ہے اسی لئے افغان طالبان سے بات چیت کامیاب نہیں ہوئی کہ مضبوط دلائل اور ثبوتوں کی موجودگی میں کہتے ہیں کہ پاکستان براہ راست تحریک طالبان سے بات کرلے، لیکن پاکستان ایسا نہیں کرتا اور نہ کرسکتا ہے کہ دہشت گردی سے مفاہمت ممکن نہیں، پاکستان کا سیدھا سادا مطالبہ ہے کہ افغان عبوری حکومت خود آپریشن کرے اور تحریک طالبان کے دہشت گردوں کو روکے لیکن بوجوہ وہ ایسا نہیں کرتے اور یہی بنیادی فرق ہے جو مفاہمت کی راہ میں حائل ہے۔

اس محاذ آرائی کے حوالے سے حکومت پاکستان مستعد ہے کہ ریاست کی بالادستی برقرار رکھی جائے گی اور اسی وجہ سے قطر اور اس کے بعد استنبول میں ہونے والے مذاکرات بھی ناکام ہوئے اور اب تو افغانستان سے مسلسل مداخلت نے پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ اصل میں سب ایک ہیں، اب جو حالات بنے اور افغانستان سوشل میڈیا نے جو کچھ پوسٹ کیا۔ اس میں اور بھارتی گودی میڈیا میں کوئی فرق نہیں رہا، اب وقت آ گیا ہے کہ طالبان کے مسلک کی بھی بات کرلی جائے۔ وہ جس مسلک کے پرچارک ہیں اسی سے تعلق رکھنے والے حضرات ہمارے بھی ملک میں کثرت سے موجود ہیں اگرچہ یہ اس طرح اظہار نہیں کرتے جیسے دونوں طرف کے طالبان کررہے ہیں۔

اب دلی کے کار دھماکے کی وجہ سے جو حالات بنے ہیں وہ پاک بھارت دشمنی والا رخ اختیار کر گئے کہ بھارت کی حکومت اور گودی میڈیا نے معمول کے مطابق پینترے بدل بدل کر پاکستان کو موردالزام ٹھہرانا شروع کر دیا ہے، حالانکہ پاکستان دشمنی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے والے روائتی بھارت اور افغان پہلے ہی ”گوریلا جنگ“ کا انداز اختیار کئے ہوئے ہیں، پاکستان نے بھارت اور افغانستان دونوں کو جارحیت کا موثر جواب دے کر ثابت کر دیا تھا کہ پاکستان نہ صرف اپنے ملک کا دفاع کرنے کا مکمل طور پر اہل ہے بلکہ جوابی کارروائی بھی کر سکتا ہے اسی حوالے سے افغان طالبان نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی اور پھر اسے ناکام بھی بنا دیا، واضح مطلب ہے کہ افغان طالبان بھارت پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کی نسبت پاکستان کو اتنا عزیز نہیں جانتے، اب تو ان کے عزائم بالکل واضح ہیں۔

اس حوالے سے جدید اور خطرناک اسلحہ چھوڑ کر چلے جانا، امریکیوں کی بزدلی یا افراتفری نہیں تھی، بلکہ اب محسوس ہوتا ہے کہ یہ اسلحہ جان بوجھ کر چھوڑا گیا کہ ہمارے خطے میں امن نہ رہے اور یہ بھی ایک ایسی پوشیدہ کہانی ہے کہ طالبان نے یہ اسلحہ خود نہ سنبھالا اور دہشت گردوں کے پاس کیسے چلا گیا، جو اسے استعمال کررہے ہیں، دوسری طرف افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے ساتھ والے علاقوں میں بسنے والے شہری دہری پریشانی میں مبتلا ہیں۔ پاکستان میں ان کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے وہ پریشان ہیں اور اکثر دہشت گردوں کی زد میں بھی آ جاتے ہیں، جبکہ افغانستان میں طالبان کی قدامت نے شہریوں کی زندگی دوبھر بنا دی ہے اور آج کے دور کے حوالے سے ان کو جنگل جیسی سلطنت میں رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

خودکش حملے کا تو کوئی توڑ نہیں۔ ماسوا اس امر کے کہ بمبار کو اس کے اصل مقصد میں کامیاب نہ ہونے دیا جائے اور وہ اس سے پہلے ہی فنا ہو جائے، تاہم وانا کیڈٹ کالج پر حملہ کو جس طرح پاک فوج سے سنبھالا وہ قابل تعریف ہے۔دہشت گردوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا گیا اور بڑے تحمل سے طلباء اور اساتذہ کو ریسکیو کرکے دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، یہ قابل ستائش ہے۔

دوسری طرف دلی (بھارت) پر قابض مودی گروہ نے بھی اب نئی حکمت عملی اپنائی ہے۔ دلی میں ہونے والا دھماکہ کارسلنڈر پھٹنے کا تھا، جو مبینہ طور پر کسی بھارتی ایجنسی کا شاخسانہ بھی ہو سکتا ہے، بہرحال بھارت نے جس طرح موقف بدل بدل کر اور واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اس کا انداز تو یہی ہے کہ دلیل اور ثبو ہو یا نہ ہو، الزام پاکستان پر تھوپ دیا حالانکہ شواہد کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔

ان حالات میں ضروری ہو گیا ہے کہ ملک کے اندر پہلے سے بھی زیادہ استحکام ہو، حکومتی عناصر کو سوچ کر حکمت عملی میں تھوڑی تبدیلی کرکے پھر سے اتفاق رائے حاصل کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں