اجتماعی خوف اور دھوکہ: اسرائیلی معاشرے سے ایرانی بے اعتمادی تک

7 اکتوبر 2023 کے بعد کے واقعات، جو بالآخر جون 2025 کے وسط میں اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم پر منتج ہوئے، اسرائیلی معاشرہ ایک گہری سماجی و نفسیاتی تبدیلی سے گزرا ہے۔ ایک طرف ہولوکاسٹ کا دیرینہ صدمہ (جس میں یہودی مورخین کے مطابق جرمنی میں 60 لاکھ یہودیوں کو نازیوں نے ہلاک کیاتھا) اس قدر راسخ ہو چکا ہے کہ اسرائیلی قیادت اسے ایک قومی المیے کے طور پر دیکھتی ہے اور یہ عزم دکھاتی ہے کہ “دوبارہ کبھی نہیں”۔
لیکن ہولوکوسٹ کا یہی صدمہ اب ایسے اقدامات کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے جو اُس نعرے کے پیچھے کارفرما اخلاقی اصولوں سے سراسر متصادم ہیں یعنی فلسطینیوں کی نسل کُشی کو جائز بنانے کے لیے ہولوکوسٹ کی حیوانیت کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس پالیسی کے مطابق، فلسطینیوں کو منظم طریقے سے غیر انسان (حیوان) قرار دیا گیا ہے—انہیں عام شہری نہیں بلکہ اسرائیل کے لیے وجودی خطرہ سمجھا گیا ہے، کبھی “انسانی جانور” تو کبھی “چوہے” کہہ کر—تاکہ ایسے لیبلز یا ایسی ڈسکرپِشن فلسطینیوں پر بمباری کی مہمات جائز قرار دی جا سکیں جن میں خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آزاد خیال یہودی دانشور خبردار کر چکے ہیں کہ یہ صرف اخلاقی لغزش نہیں بلکہ اسرائیل کا ایک نظریاتی انہدام ہے۔
اس تنقید میں ایک کلیدی اضافہ صہیونیت (Zionism) کے نظریاتی کردار کا ہے۔ یورپی پوگرومز اور نازی عقوبت خانوں سے ہزاروں میل دُور، فلسطینیوں کا یہودیوں کے تاریخی مصائب سے کوئی تعلق نہ تھا۔ لیکن صہیونی نظریے نے یورپ کے ہولوکوسٹ کے صدمے کو فلسطینیوں پر منتقل کر دیا۔ اسرائیل کے ایک جریدے “فیدھم” (Fathom) میں امریکی فیمینسٹ فلسفی جیوڈتھ بٹلر (Judith Butler) جیسے دانشوروں نے صہیونیت کو “نوآبادیاتی تشدد کا منصوبہ” قرار دیا، اور “دی کوسچین آف زائیون” (The Question of Zion) کی مصنفہ اور برطانوی فیمینسٹ دانشور، جیکلین روز (Jacqueline Rose)، نے اسرائیل مظالم کو “جدید قومی ریاست کی کچھ انتہائی سفاکی” کہتے ہوئے ہوئے اسے نسل پرستانہ خالص پرستانہ نظریات پر مبنی “خطاب” (discourse) قرار دیا۔
جرمن-یہودی فلسفی ہنا آرنٹ (Hannah Arendt) نے ابتدا میں ہی خبردار کیا تھا کہ “قبائلی قوم پرستی” (tribal nationalism) بالآخر تباہ کن نسلی خالص پسندی میں بدل جاتی ہے۔ ان کے مطابق:
“سیاسی طور پر، قبائلی قوم پرستی ہمیشہ یہ اصرار کرتی ہے کہ اس کی قوم ایک ‘دشمنوں کی دنیا’ میں گھر چکی ہے … اور انسانیت کے تصور کو نظریاتی طور پر رد کر دیتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ انسانیت کو عملاً تباہ کرے۔”
‘بعد از صہیونیت’ (Post-Zionism) کے مفکرین جیسے ایلان پاپے (Ilan Pappé) بھی یہی مؤقف رکھتے ہیں: صہیونی نظریے کی نسلی-قومی منطق انسانیت کے مشترکہ تصور کو مٹا دیتی ہے اور “دوسرے” (other) کا غیر انسانی تصویر پیش کرنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔
اکتوبر 2023 کے بعد، یہ رجحان تیز تر ہو گیا۔ ایک فلسطینی تھنک ٹینک “ویژن سینٹر فار پولیٹیکل ڈویلپمنٹ” (Vision Center for Political Development) کی تحقیق کے مطابق اسرائیلی عوامی بیانیے میں نسل کشی پر مبنی زبان عام اور معمول بن چکی ہے: مارچ 2025 میں کیے گئے ایک سروے میں 82 فیصد یہودی اسرائیلیوں نے غزہ کے عوام کی جبری نقل مکانی کی حمایت کی، اور 47 فیصد نے ایک مکمل شہر کی آبادی کو قتل کرنے کے حق میں رائے دی—یہ بائبل میں مذکور یریحو (Jericho) کے قتل عام کی بازگشت تھی (یہودی تاریخ میں یریحو نامی شہر کو جب یہودیوں نے فتح کیا تھا تو بچوں اور عورتوں سمیت اس کے تمام شہریوں کو قتل کردیا تھا، یعنی آج کے اسرائیلی بیانیے میں بعض عناصر وہی تاریخی مذہبی داستانیں استعمال کر کے جدید نسل کشی یا جبری بے دخلی کو اخلاقی جواز دینے کی کوشش کرتے ہیں)۔ اسی عرصے میں یروشلم کی “ہیبریو یونیورسٹی” (Hebrew University) میں کی گئی نفسیاتی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہودی اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کو “بشری ارتقا” (Ascent of Man) کی درجہ بندی کے پیمانے پر تقریباً چالیس پوائنٹس کم درجہ دیا—جو غیر انسانی تصور کیے جانے کا مقداری پیمانہ ہے۔
اسرائیل کےایک صحافی، گدعون لیوی (Gideon Levy) جو اسرائیلی سوسائیٹی کے اخلاقی انحطاط پر سخت تنقید کرتے، نے افسوس کا اظہار کیا کہ “ہم ایک فسطائی معاشرہ بنتے جا رہے ہیں”، کیونکہ صہیونی نظریہ ریاستی تشدد سے جُڑ کر عام شہریوں پر ظلم کو معمول کا عمل بنا چکا ہے۔ امریکی-یہودی دانشور اور ماہر لسانیات نوم چومسکی (Noam Chomsky) نے خبردار کیا کہ اسرائیلی صہیونیت “اب انہی اقدار کی نمائندگی کر رہی ہے جنہیں یہودی اخلاقیات ہمیشہ سے مسترد کرتی آئی ہیں: نسلی خالص پسندی، نسل پرستی، اور اجتماعی سزا”۔
یہ سب کچھ ایک ایسے میڈیا کے ماحول میں ہو رہا ہے جہاں ملٹری منطق نے سویلین بیانیے پر غلبہ پا لیا ہے۔ اسرائیلی صحافی اور اکیڈمک، پروفیسر یورام پیری (Yoram Peri) کے مطابق، یہ بیانیے “اخلاقی لاتعلقی” (moral disengagement) کو فروغ دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں فلسطینیوں پر مظالم محض “قابلِ قبول نقصان” اور ان کی ہلاکتیں “جائز اہداف” بن جاتی ہیں—نہ کہ انسانی المیے۔
یہ ایک ہولناک تضاد ہے: وہی معاشرہ جو نسل کشی کے خلاف عالمی انتباہ کا علمبردار تھا، اب ریاستی سطح پر عام انسانوں کے خلاف تشدد کو روا رکھتا ہے۔ صدمہ اور خوف باہم مل کر قومی عدم تحفظ کا میدانِ جنگ بنا دیتے ہیں۔ اسرائیلی صیہونیوں کے لیے غزہ اب ایک شہری علاقہ نہیں، بلکہ “دہشت گردی کی فیکٹری” ہے، فلسطینی بچے بھی مستقبل کے عسکریت پسند سمجھے جاتے ہیں۔ نسل کشی، دفاع میں بدل جاتی ہے۔ اور پورا “مہذب” مغرب اسے اسرائیل کے دفاع کے حق میں جائز قرار دیتا ہے اور بچوں اور عورتوں کے میزائلوں سے قتل کو درست کہتا ہے۔
اب دوسری جانب چلتے ہیں: جون 2025 میں ایران کی جانب سے اپنی جوابی کارروائی کے دوران اسرائیلی سرزمین پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش، جو اسرائیلی ائر ڈیفنس سسٹمز اور شہری علاقوں پر کی گئی جو اس سے پہلے کسی نے اسرائیل پر نہیں کی تھی، یہ ایک ایسا لمحہ ہونا چاہیے تھا جو اسرائیلی عزم کو ہلا دیتا۔ لیکن اس کے برعکس، اس نے اس عزم کو مزید مضبوط کر دیا کہ اُسے مظالم کا سلسلہ جاری رکھنا ہو گا۔ تباہی اور جانی و مالی نقصان نے نہ صرف ایران پر جوابی حملوں کی حمایت میں اضافہ کیا بلکہ غزہ میں مزید شدت کے ساتھ خوراک تلاش کرنے والے تباہ حال فلسطینیوں پر بمباری میں اضافہ ہو گیا۔ یعنی محاصرے کا نفسیاتی نظریہ (siege psychology) اب ایک باقاعدہ پالیسی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔
دوسری طرف، ایران کا متوازی نفسیاتی سفر اعتماد شکنی اور اجتماعی غصے کے انضمام کا تھا۔ جون 2025 کے اسرائیلی-امریکی فضائی حملے، جن میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس میں 900 سے زائد سویلینز سمیت فوجی قیادت کا قتل ہوا، اُس وقت کیے گئے جب مسقط میں نیوکلیئر مذاکرات جاری تھے—یہ ایران کے لیے ایک مہلک دھچکا ثابت ہوا۔ ایرانی حکام نے ان حملوں کو سفارت کاری کا “جنازہ” قرار دیا اور امریکا پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا۔ تہران میں عوامی نعرہ بن چکا تھا: “مغرب نے ہمیں دھوکہ ”۔
مغرب کے دھوکے کا یہ بیانیہ ایرانی سیاسی ثقافت میں گہرائی سے پہلے سے ہی پیوست ہے۔ جو “ریفارمسٹ” یعنی “اصلاح پسند” کبھی جے سی پی او اے (JCPOA — مشترکہ جامع عملی منصوبہ) یا امریکہ سے معاہدہ کر کے مغرب سے تعلقات معمول پر لانے کے حامی تھے، وہ اپنی ساکھ کھو بیٹھے جب مذاکرات کے دوران ہی بمباری نے ان کی پالیسی کو بے معنی ثابت ہو گئی۔ عوامی سطح پر مغرب پر سے بھروسہ مکمل طور پر اُٹھ گیا؛ مصالحت کے لیے نفسیاتی گنجائش ختم ہو گئی۔
اب نتیجہ یہ ہے کہ اسرائیلی اور ایرانی دونوں معاشرے صدمے، خوف اور اجتماعی مایوسی سے مکمل طور پر متضاد سمتوں میں بدل چکے ہیں۔ اسرائیل، صہیونیت سے متاثرہ محاصرے کی نفسیات (siege mentality) میں گرفتار ہو کر آفاقی اخلاقیات کو چھوڑ چکا ہے اور ریاستی نظریے کے تحت نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ایران، مذاکرات اور میدانِ جنگ دھوکے کے تجربے کے بعد، جوابی طاقت کے ذریعے قومی اتحاد تشکیل دینا چاہتا ہے اور مغربی نیت پر شک کو اپنی ریاستی زبان بنا چکا ہے۔ ہمدردی ختم ہو چکی ہے، تصادم اب معمول ہے۔
اس خونی چکر میں مشترکہ انسانیت کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ اب صرف تشدد ہی بچا ہے—گویا یہی واحد ’گرائمر‘ ہے جو دونوں فریق سمجھتے ہیں۔ دونوں آخری زمانے کے اُس دور کے منتظر ہیں جب ان کے اپنے اپنے مسیحاؤں کا ظہور ہونے والا ہے۔ اسرائیلی داؤد کی نسل سے تعلق رکھنے والے ’ماشیح‘ کے منتظر ہیں، اور ایرانی محمدؐ کی نسل سے تعلق رکھنے والے ’مہدی‘ کے۔
تاہم یہاں ایک نمایاں فرق موجود ہے: اگرچہ دونوں معاشرے کم و بیش ایک جیسے صدمے سے گزر رہے ہیں، لیکن جہاں اسرائیلی معاشرہ یریحو کے قتلِ عام کے راستے پر چل نکلا ہے، وہیں ایرانی معاشرہ اپنے صدمے سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ایک بلند تر اور بامعنی مثال رکھتا ہے: سانحۂ کربلا۔ وہاں امام حسینؑ کے ہر رفیق نے قربانی، استقامت اور اخلاقی عظمت کا ایسا معیار قائم کیا جو رہنمائی کا سرچشمہ بن گیا۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو ان دونوں معاشروں کو بالکل مختلف بلکہ متضاد سمتوں کی جانب لے جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں