البرٹا کے اسکول لائبریریوں سے جنسی مناظر والی کتابیں ہٹا دی گئیں

ایڈمنٹن(نمائندہ خصوصی/دی کینیڈین پریس)البرٹا کی حکومت نے اسکولوں کی لائبریریوں سے اُن کتابوں کو ہٹانے کا حکم جاری کر دیا ہے جن میں “واضح جنسی مناظر” شامل ہیں۔ اس اقدام کو وفاقی اور صوبائی سطح پر بڑٰی توجہ اور ردعمل کا نشانہ بننا پڑا ہے۔

کتابوں کی فراہمی میں تبدیلی: جون اور جولائی 2025 میں جاری حکم کے تحت اسکول لائبریریوں سے “explicit sexual content” والی کتابیں یکم اکتوبر 2025 تک ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔

حکومت کا موقف: البرٹا کے وزیر تعلیم، Demetrios Nicolaides، کے مطابق یہ اقدام “کتابوں کی پابندی” نہیں بلکہ بچوں کو مناسب اخلاقی اور عمر کے مطابق مواد فراہم کرنے کے لیے ایک معیار کا نفاذ ہے۔

تفصیلی حالات:حکومتی وضاحت اور اصول:وضاحتی مواد: سیکشنز جیسا کہ مشت زنی، جنسی تناسل اور penetrations واضح طور پر بیان شدہ اور تفصیلی جنسی عمل شامل ہیں، جو کتابوں سے ہٹائے جائیں گے۔

غیر واضح مواد: ہلکی یا ضمنی جنسی تفصیلات جیسے kissing، hugging، menstruation وغیرہ ابتدائی کلاسز (گریڈ 9 یا نیچے) کیلئےمحدود ہیں، جبکہ گریڈ 10–12 میں developmental appropriate ہونے پر دستیاب ہوں گی۔

استثناءات: طبّی اور تکنیکی مواد، مذہبی کتب، یا سیکھنے میں معاون مواد اس پابندی کے دائرہ سے باہر رکھے گئے ہیں۔

خصوصی مثالیں:چار گرافک ناول (graphic novels) — Gender Queer (Maia Kobabe), Fun Home (Alison Bechdel), Blankets (Craig Thompson), اور Flamer (Mike Curato) — ابتدائی طور پر ہٹائے جانے والی کتابوں کی فہرست میں شامل تھیں۔

نہم اور ردعمل:نقداتی آوازیں واضح ہیں: لائبریرین اور اساتذہ نے اسے “censorship” قرار دیا، جبکہ نگران اداروں نے اسے تعلیم میں سیاست کا حصہ قرار دیا۔خصوصاً LGBTQ+ سے وابستہ مواد پر پابندی کے تناظر میں احتجاج اور تنقید بڑھی۔

بیان بازی میں تبدیلی:مشہور مصنفہ Margaret Atwood نے اس اقدام پر طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے The Handmaid’s Tale اور دیگر کلاسیکی ادب کو ہٹانے کے اقدام کی مخالفت کی۔اس کی وجہ سے تعلیمی وزیر نے پابندی پر نظرِثانی اور وضاحت کا عندیہ دیا، جس میں کلاسک ادب کو برقرار رکھنے جبکہ صرف انتہا پسندانہ یا پورنوگرافک مواد کو ہٹانے پر زور دیا جائے گا۔

یہ فیصلہ البرٹا میں اسکولوں کی لائبریریوں کو عمر کے مطابق، اخلاقی اور سماجی اقدار کی حفاظت کے تناظر میں مواد فراہم کرنے کے حکومت کے عزم کا آئینہ ہے۔ تاہم اس پر پابندی کے تناظر میں آزادیِ اظہار، LGBTQ+ کی نمائندگی، اور کلاسیکی ادب کے مستقبل پر بڑے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں