استعفی یا وزیراعظم

صدر آصف علی زرداری استعفی دینے جا رہے ہیں یا ان سے استعفی لے لیا جائے گا یہ خبر برادرم اعزاز سید نے بریک کی جبکہ انکے بعد بھی اس خبر کو کئی اینکرز اور سوشل میڈیا نے چبایا خبر درست ہےیاغلط اسکا فیصلہ سردست کرنا مشکل ہےلیکن یہ طے ہے کہ اس کہانی کے کم از کم 3 کردار ہیں صدر مملکت, ملک ریاض اور اپنے “صاحب “.

آصف زرداری کے استعفے کی خبروں پر تبصرہ نگاروں نے زیرک مبصرین کی طرح اگر مگر کے ساتھ اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ اسکے بعد کیا ہو گا۔۔ ۔ تو کچھ کی نظر میں قائمقام صدر کیلئے نہ تو موجود آئین کے مطابق کیلئےچیئرمین سینٹ کا نمبر آئے گا اور نہ ہی سپیکر قومی اسمبلی کو موقع ملے گا بلکہ آئین میں ترمیم کی جائے گی اور صاحب بہادر کے مضبوط کندہوں پر یہ ذمہ داری آئین ہی ڈال دے گا جب آئین ایسا کہے گا تو”صاحب ” بہادر تو آئین کے پابند ہیں ناں ۔۔ وہ ہی یہ بھاری ذمہ داریاں سنبھال لیں گے .

اس خبر سے حکمران جماعت سے لیکر اتحادیوں تک سراسیمگی کی ایک لہر دوڑ گئی ہے.خبر میں کس حد تک صداقت ہے ؟ جبکہ خبر دینے والے کہتے ہیں کہ ہم نے ترمیمی قانون سازی کا مجوزہ مسودہ بھی دیکھا ہے میرا تجربہ یہ کہتا ہے ابھی اس خبر کو ٹیسٹر لگایا گیا ہے تاکہ عوامی ردعمل کو جانچا جا سکے اور سکے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے فی الحال یہ خبر سوائے ردعمل کو جانچے کے کچھ اور نظر نہیں آتی .

لیکن سوال یہ پیدا ھوتا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور کیا آصف علی زرداری آسانی سے استعفی دے دیں گے تو آئیے اسکا پوسٹ مارٹم بھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں .

صدر پاکستان اور ملک ریاض کے تعلقات کا کس کو علم نہیں جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آصف زرداری اور ملک ریاض کئی پراجیکٹس میں پارٹنر بھی ہیں آصف علی زرداری جنکا مشکلات بھرا ماضی سب کے سامنے ہیں انہوں نے ہر مشکل کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے اور شائد ہی حالات کے سامنے سرنڈر کیا ہو آصف علی زرداری کے بارے یہ بھی مشہور ہے کہ وہ یاروں کے یار ہیں وہ دوستوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتے ممکنہ طور پر ملک ریاض جو کرپشن کے مقدمات میں بری طرح جکڑے ہوئے ہیں وہ بھی اس تمام صورتحال کا موجب ہو سکتے ہیں .

ایک اور پہلو کس پر سیاسی ذہن غور کر رہے ہیں صدر کا استعفی بیلنس “کرنے کیلئے ہو اور قومی سیاست کے اگلے مرحلے میں مولانا فضل الرحمان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سیاسی تلاطم برپا کرنے جارہے ہوں شہباز شریف اپوزیشن بنچوں پر بیٹھیں .

اقتدار بلاول کے سر کا تاج بنے کیونکہ نمبر گیم کے مطابق تو یہ ممکن ہے تحریک انصاف عمران خان کی مرضی یا باغی انصافی حکومتی اتحاد میں شامل ہوگئے تو سیاسی جمود بہت حد تک کم ہو جائے جس سے اسٹیبلشمنٹ کو سکھ کا سانس ملے گا سیاسی استحکام آئے گا اور بہت سے منصوبے جو آصف زرداری کی “مصلحت “کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں وہ اگلے صدر پائہ تکمیل تک پہنچا دیں جیسے پانی اور منرلز کا منصوبے تصویر کا کونسا رخ آئندہ کچھ عرصہ میں ہم دیکھ سکیں گے اسکے لئے تو انتظار ہی کرناہو گا.

اپنا تبصرہ لکھیں