اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران میں 78 افراد شہید، 329 زخمی – عالمی برادری کی خاموشی

تہران(ایجنسیاں)ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق آج اسرائیل کی جانب سے ایرانی سرزمین پر کیے گئے متعدد فضائی حملوں کے نتیجے میں 78 افراد جاں بحق اور 329 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ حملے دارالحکومت تہران سمیت ملک کے مختلف حصوں میں کیے گئے، جن میں رہائشی علاقے، فوجی تنصیبات، ایٹمی مراکز اور اعلیٰ عسکری قیادت کی رہائش گاہیں شامل ہیں۔

ان فضائی حملوں میں ایران کی تین اعلیٰ ترین عسکری شخصیات اور چھ نامور سائنسدان بھی شہید ہوئے ہیں، جن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ شہادت پانے والے ان سائنسدانوں کا تعلق ایران کے جوہری و دفاعی تحقیقاتی اداروں سے تھا، اور ان کی خدمات ملک کے دفاعی استحکام میں کلیدی حیثیت رکھتی تھیں۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا”صہیونی ریاست نے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا کر ایک بار پھر اپنی ظالمانہ فطرت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اسرائیل کو اس بہیمانہ جارحیت کی سخت اور فیصلہ کن سزا بھگتنی ہو گی۔”

ایرانی وزارتِ خارجہ نے اقوام متحدہ، او آئی سی، اور بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہیں، جو عالمی امن کے لیے ایک خطرناک نظیر قائم کر سکتے ہیں۔

ایرانی عوام میں اس حملے پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ دارالحکومت سمیت مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہو چکے ہیں، جن میں عالمی برادری کی خاموشی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ایرانی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس حملے کا جواب اپنے وقت اور اپنی شرائط پر دے گی۔ ماہرینِ بین الاقوامی امور کے مطابق خطے میں حالات انتہائی نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں اور کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کے نتیجے میں ایک وسیع پیمانے کی جنگ چھڑ سکتی ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں