یروشلم/غزہ (الجزیرہ/اے ایف پی/رائٹرز) اسرائیلی حکام نے غزہ کیلئےامداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل چار اطالوی رضاکاروں کو ملک بدر کر دیا ہے جبکہ بقیہ سیکڑوں کارکنوں کو بھی جلد واپس بھیجنے کا عندیہ دیا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق “تمام گرفتار شدگان محفوظ اور صحت مند ہیں” اور حکومت چاہتی ہے کہ ملک بدری کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔جمعہ کی صبح اسرائیلی بحریہ نے فلوٹیلا کی آخری کشتی پولینڈ کے جھنڈے والی ’میرینیٹ‘ کو بھی روک لیا جس پر 6 افراد سوار تھے۔ اس سے قبل یکم اکتوبر کو اسرائیلی فورسز نے غزہ کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے والی درجنوں کشتیوں سے تقریباً 500 کارکنوں کو گرفتار کر لیا تھا، جن کا تعلق 40 سے زائد ممالک سے تھا۔

بین الاقوامی فلوٹیلا کمیٹی کے مطابق کئی کارکنوں نے گرفتاری کے بعد غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔پیرس میں قائم رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے بتایا کہ فلوٹیلا پر 20 سے زائد غیر ملکی صحافی بھی موجود تھے جنہیں گرفتار کیا گیا۔ آر ایس ایف نے اسے “آزادیِ صحافت اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی” قرار دیا۔
گرفتار شدگان میں کئی عالمی شخصیات بھی شامل ہیں، جن میں ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، اسپین کی سابق میئر بارسلونا آدا کولاو اور یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن شامل ہیں۔کولمبیا کے صدر گسٹو پیٹرو نے اسرائیلی سفیروں کو ملک بدر کرنے اور آزاد تجارتی معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا۔
22 سالہ سویڈش لڑکی گریٹا ایک بار پھر غزہ کیلئے امدادی فلوٹیلا لے جاتے ہوئے 200 سے زائد انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت گرفتارہوئی ہے.چند ماہ قبل اسرائیل نے دھمکی دی تھی “اگلی بار جان سے مار دی جاؤ گی”، مگر وہ ڈری نہیں، پوری دنیا کو اکٹھا کر کے دوبارہ نکل کھڑی ہوئی۔
یورپی ممالک جرمنی، فرانس، برطانیہ، اسپین، یونان اور آئرلینڈ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ گرفتار عملے کے حقوق کا احترام کرے۔اقوام متحدہ کی نمائندہ برائے فلسطین فرانسسکا البانیزے نے ان گرفتاریوں کو “غیر قانونی اغوا” قرار دیا۔انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن (آئی ٹی ایف) کے سیکریٹری جنرل اسٹیفن کاٹن نے کہا کہ “بین الاقوامی پانیوں میں غیر مسلح امدادی کشتیوں پر حملہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔”
یہ اب تک کا سب سے بڑا بحری امدادی مشن تھا جس کا مقصد محصور غزہ تک انسانی امداد پہنچانا تھا۔ اسرائیل نے رضاکاروں پر الزام لگایا کہ وہ “قانونی بحری محاصرہ توڑنے کی کوشش” کر رہے تھے اور کہا کہ انہیں روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

