لندن ( نمائندہ خصوصی+الجزیرہ) –اسرائیلی صدر اسحٰق ہرزوگ نے کہا ہے کہ اسرائیل مکمل معاہدے، جنگ بندی، مغویوں کی واپسی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر پیش رفت کیلئےتیار ہے۔ یہ بیان لندن میں چیتھم ہاؤس تھنک ٹینک میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران سامنے آیا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی صدر اسحٰق ہرزوگ نے لندن میں چیتھم ہاؤس تھنک ٹینک میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’’اسرائیل تیار ہے، ہم انتظار کر رہے ہیں، اور ہر روز دیکھتے ہیں کہ حماس تجاویز کے ساتھ کس طرح جوڑ توڑ کرتی ہے۔‘‘
یہ ریمارکس ایک روز بعد سامنے آئے جب اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے وفد پر حملہ کیا تھا۔ یہ وفد مبینہ طور پر امریکا کی پیش کردہ جنگ بندی تجویز پر بات چیت کیلئےدوحہ میں موجود تھا۔ حملے کی عالمی سطح پر سخت مذمت کی گئی ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس حملے کو پاکستان میں اسامہ بن لادن کو نشانہ بنانے کیلئےکیے گئے امریکی آپریشن سے تشبیہ دی تھی اور قطر سمیت تمام ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’یا دہشت گردوں کو بے دخل کریں یا انہیں کٹہرے میں لائیں، ورنہ ہم ایسا کریں گے۔‘‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہرزوگ کے یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیل جنگ بندی کے حوالے سے کسی بڑے سمجھوتے کیلئے دباؤ میں ہے، تاہم دوحہ میں حملے کے بعد مذاکراتی عمل مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

