بیروت( اے ایف پی)اسرائیلی فوج نے ایک مرتبہ پھر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان میں ڈرون حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں حزب اللہ کے لاجسٹکس کمانڈر عباس حسن کرکی شہید ہو گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کے حوالے سے بتایا کہ عباس حسن کرکی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ نبطیہ کے قریب واقع گاؤں تول کی سڑک پر گاڑی چلا رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق انہیں ایک اسرائیلی ڈرون نے گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنایا۔ ایجنسی نے مزید بتایا کہ حملے کے بعد گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور عباس کرکی موقع پر ہی شہید ہو گئے۔اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ “حزب اللہ کے سدرن فرنٹ ہیڈکوارٹرز کے لاجسٹکس کمانڈر عباس حسن کرکی کو ایک مخصوص کارروائی کے دوران ہدف بنایا گیا۔”
واضح رہے کہ نومبر 2024 کے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل نے کئی بار لبنان پر فضائی اور زمینی حملے کیے ہیں۔ یہ معاہدہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک سال سے زائد جاری جھڑپوں کے خاتمے کے لیے طے پایا تھا۔
معاہدے کے مطابق اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان سے انخلا کرنا تھا، جبکہ حزب اللہ کو دریائے لطانی کے شمال کی جانب ہٹ کر جنوبی علاقوں میں اپنی فوجی تنصیبات ختم کرنی تھیں۔
دوسری جانب امریکی دباؤ اور اسرائیلی حملوں میں ممکنہ اضافے کے خدشے کے پیش نظر لبنانی حکومت نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کی حزب اللہ اور اس کے اتحادی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔
گزشتہ روز جنگ بندی نگرانی کمیٹی کے سربراہ امریکی جنرل جوزف کلیرفیلڈ سے ملاقات کے دوران لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے کہا تھا کہ لبنان سال کے اختتام سے قبل دریائے لطانی کے جنوب میں اسلحے کے انحصار کا عمل مکمل کرنے کیلئےپرعزم ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ “اس کے بدلے میں اسرائیل اپنے وعدوں کی پاسداری کرے، مقبوضہ لبنانی علاقوں سے انخلا کرے اور جاری حملوں کو فوری طور پر بند کرے۔”

