اسرائیل: گریٹا تھن برگ سے بدسلوکی، غزہ فلوٹیلا کے 137 کارکن ترکی پہنچ گئے

استنبول (رائٹرز/ڈان) — اسرائیل نے غزہ کیلئے امداد لے کر جانے والے بحری قافلے سے حراست میں لیے گئے 137 کارکنوں کو ہفتے کے روز ترکی جلاوطن کر دیا، جن کی آمد استنبول ایئرپورٹ پر ہوئی۔ ان کارکنوں میں شامل دو افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھن برگ کے ساتھ اسرائیلی حراست کے دوران بدسلوکی کی گئی۔

رائٹرز کے مطابق، اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم اس نے پہلے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ “حراستی مراکز میں بدسلوکی کی تمام اطلاعات مکمل طور پر جھوٹ ہیں۔”

استنبول پہنچنے والے 137 کارکنوں میں 36 ترک شہری شامل تھے، جب کہ باقی کا تعلق امریکا، متحدہ عرب امارات، الجزائر، مراکش، اٹلی، کویت، لیبیا، ملیشیا، موریتانیا، سوئٹزرلینڈ، تیونس اور اردن سے تھا۔

ملیشیا کے شہری حضوانی حلمی اور امریکی کارکن وِن فیلڈ بیور نے ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ انہوں نے گریٹا تھن برگ کے ساتھ بدسلوکی ہوتے دیکھی۔ان کے بقول، “اسے زبردستی دھکیلا گیا اور اسرائیلی پرچم اوڑھنے پر مجبور کیا گیا۔”

28 سالہ حلمی نے بتایا، “یہ ایک بھیانک تجربہ تھا، ہمیں جانوروں کی طرح رکھا گیا۔” ان کے مطابق، قیدیوں کو صاف پانی یا کھانا نہیں دیا گیا، ان کی ذاتی اشیاء اور دوائیں بھی ضبط کر لی گئیں۔43 سالہ بیور نے کہا کہ تھن برگ کے ساتھ “انتہائی خراب سلوک” کیا گیا اور اسے “پروپیگنڈا کیلئے استعمال” کیا گیا۔ ان کے مطابق، اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر کے پہنچنے پر اسے ایک کمرے میں زبردستی دھکیلا گیا۔

صہیونی فوج نے غزہ جانے والے امدادی بیڑے کی تمام 40 کشتیوں کو روک کر 450 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا تھا، جس پر اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے سماجی پلیٹ فارم ایکس (X) پر بیان جاری کیا کہ “تمام زیرِ حراست کارکن محفوظ اور صحت مند ہیں” اور باقی ماندہ افراد کی واپسی “جلد از جلد” مکمل کی جا رہی ہے۔

اٹلی کے وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا کہ 26 اطالوی کارکن ترکی ایئرلائنز کی پرواز کے ذریعے واپس پہنچ گئے ہیں، جب کہ مزید 15 کارکن اب بھی اسرائیل میں زیرِ حراست ہیں اور آئندہ چند دنوں میں جلاوطن کیے جائیں گے۔
تاجانی نے ایکس پر لکھا، “میں نے تل ابیب میں اطالوی سفارتخانے کو ہدایت کی ہے کہ باقی شہریوں کے ساتھ ان کے حقوق کے مطابق احترام سے سلوک یقینی بنایا جائے۔”

اطالوی پارلیمان کے 4 ارکان پر مشتمل پہلا گروپ جمعہ کو روم پہنچ چکا ہے۔ ان میں سے ایک رکن بینیڈیٹا سکودیری نے بتایا، “ہمیں وحشیانہ انداز میں روکا گیا، وحشیانہ طریقے سے یرغمال بنایا گیا۔”کارکنوں کو قانونی معاونت فراہم کرنے والی اسرائیلی تنظیم عدالہ کے مطابق، کچھ قیدیوں کو وکیلوں، پانی اور دواؤں تک رسائی سے محروم رکھا گیا۔تنظیم کا کہنا ہے کہ بعض شرکا کو “فری فلسطین” کے نعرے لگانے پر کم از کم 5 گھنٹے تک زِپ ٹائیز سے باندھ کر گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا۔”

اپنا تبصرہ لکھیں