اسلامی نظریاتی کونسل نے انجینئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا ملزم قرار دیدیا

اسلام آباد(نامہ نگار)اسلامی نظریاتی کونسل نے معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا ملزم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیانات کسی شرعی مقصد کے بغیر نقلِ کفر پر مبنی ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ سخت تعزیری سزا کے مستحق ہیں۔

ڈان نیوز کے مطابق کونسل کے اجلاس کی صدارت علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے کی، جبکہ اراکین میں جسٹس (ر) ظفر اقبال چوہدری، ڈاکٹر عبد الغفور راشد، صاحبزادہ پیر خالد سلطان قادری، محمد جلال الدین ایڈووکیٹ اور حافظ طاہر محمود اشرفی شامل تھے۔ دیگر شرکاء میں ملک اللہ بخش کلیار، جسٹس (ر) الطاف ابراہیم، مولانا پیر شمس الرحمٰن، محمد یوسف اعوان اور دیگر شامل تھے۔

اجلاس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سائبر کرائم ونگ کے مراسلہ کے تحت مرزا محمد علی پر عائد ایف آئی آر توہین رسالت کا جائزہ لیا گیا۔

خیال رہے کہ 26 اگست کو جہلم پولیس نے متنازع ویڈیو بیان کے بعد انجینئر محمد علی مرزا کو امن عامہ (تھری ایم پی او) آرڈیننس کے تحت حراست میں لے کر جیل منتقل کیا، جبکہ ان کی اکیڈمی کو بھی سیل کر دیا گیا۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے مطابق قرآن و سنت میں بعض کفریہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں، لیکن وہ تائید کے لیے نہیں بلکہ ردّ، انکار اور تنبیہ کے مقصد کے تحت ہیں۔ شرعی اصول کے مطابق کفر کے الفاظ صرف جائز دینی ضرورت جیسے شہادت، باطل کی تردید یا تعلیم کے لیے نقل کیے جا سکتے ہیں، اور بلا مقصد نقل کرنا ناجائز اور بعض صورتوں میں گناہ ہے، خاص طور پر حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں۔

کونسل نے کہا کہ انجینئر مرزا کے کئی بیانات محض نقلِ کفر پر مبنی ہیں اور کسی شرعی مقصد کے بغیر کہے گئے، اس بنا پر وہ سخت تعزیری سزا کے مستحق ہیں۔ مزید کہا گیا کہ ایک ویڈیو میں ان کا بیان قرآن پاک کی توہین اور معنوی تحریف کے زمرے میں بھی آتا ہے اور توہین رسالت کا موجب بنتا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے یہ بھی کہا کہ انجینئر مرزا کے بیانات فساد فی الارض پھیلانے کے باعث ہیں، اور اس سلسلے میں پاکستان کی مسیحی برادری کو مراسلہ بھیجا جائے گا تاکہ وہ واضح کریں کہ مرزا کے بیانات ان کی مقدس کتابوں اور اجتماعی رائے کے مطابق ہیں یا نہیں، جس کے بعد تفصیلی فیصلہ مرتب کیا جائے گا۔

کونسل کا فیصلہ مذہبی حساسیت کے پیشِ نظر جاری کیا گیا اور اس کا مقصد شرعی حدود اور عوامی امن و امان کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں