اسلام آباد:وفاقی بجٹ 26-2025کا 17,573 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیاگیا

تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ، 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس
پیٹرولیم لیوی میں نمایاں اضافہ، نان فائلرز کے لیے سختیاں

اسلام آباد(نامہ نگار+نمائندہ خصوصی+ایجنسیاں)وفاقی حکومت نے مالی سال 26-2025 کیلئے 17,573 ارب روپے کے تخمینی حجم پر مشتمل وفاقی بجٹ پیش کر دیا۔ بجٹ سے قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کا اہم اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں بجٹ تجاویز کی منظوری دی گئی۔ بجٹ دستاویزات کو پولیس کی سخت سیکیورٹی میں پارلیمنٹ ہاؤس پہنچایا گیا۔

📊 بجٹ کا مجموعی خاکہ:
مجموعی اخراجات: 17,573 ارب روپے
جاری اخراجات کا تخمینہ: 16,286 ارب روپے
وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP): 1,000 ارب روپے
مجموعی ریونیو کا تخمینہ: 19,278 ارب روپے
ایف بی آر ٹیکس ہدف: 14,121 ارب روپے
نان ٹیکس آمدن: 5,147 ارب روپے
صوبوں کا حصہ: 8,206 ارب روپے
وفاق کا خالص ریونیو: 11,072 ارب روپے

💰 تنخواہیں، پنشن اور مراعات:
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ۔
تمام پنشنرز کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ۔
گریڈ 1 تا 16 کے ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس دینے کی تجویز۔
معذور ملازمین کے لیے کنوینس الاؤنس 4,000 سے بڑھا کر 6,000 روپے۔
انکم ٹیکس سلیبز پر 2.5 فیصد ٹیکس ریلیف کی تجویز۔

⛽ پیٹرولیم لیوی و توانائی شعبہ:
پیٹرولیم لیوی بڑھا کر 100 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز۔
کاربن لیوی: پیٹرولیم مصنوعات پر 2.5 روپے فی لیٹر، آئندہ سال تک 5 روپے تک بڑھنے کا امکان۔
پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت صرف ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے کی جائے گی۔
کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی سے 105 ارب روپے کی آمدن متوقع۔

💳 نان فائلرز، فری لانسرز و یوٹیوبرز پر اقدامات:
نان فائلرز کیلئے بینک سے 50,000 روپے سے زائد کیش نکلوانے پر ٹیکس بڑھا کر 1.2 فیصد۔
یوٹیوبرز، فری لانسرز، اور نان فائلرز کیلئے نئے ٹیکس اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

🏗️ ترقیاتی اخراجات اور منصوبہ جات:
وفاقی ترقیاتی پروگرام: 1,000 ارب روپے
صوبائی ADP: 2,869 ارب روپے
ارکان پارلیمنٹ کی اسکیمیں: 70.38 ارب روپے
آبی وسائل ڈویژن: 133.42 ارب روپے
این ایچ اے: 226.98 ارب روپے
پاور ڈویژن: 90.22 ارب روپے
ریلوے ڈویژن: 22.41 ارب روپے
پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ: 21 ارب روپے

🌍 خصوصی علاقے اور انضمام شدہ اضلاع:
انضمام شدہ اضلاع: 65.44 ارب روپے
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان: 82 ارب روپے
اسپیشل ایریاز و صوبائی نوعیت کے منصوبے: 105.78 ارب روپے
کل وفاقی مختص: 253.23 ارب روپے

💸 متفرق آمدن تخمینے:
پیٹرولیم لیوی: 1,468.39 ارب روپے
گیس ڈیولپمنٹ سرچارج: 49.43 ارب روپے
پاسپورٹ، نیوٹرلائزیشن فیس: 76.50 ارب روپے
خام تیل پر رائلٹی: 69 ارب روپے
قدرتی گیس پر رائلٹی: 138 ارب روپے
موبائل ہینڈ سیٹس پر لیوی: 12 ارب روپے
اسلام آباد ایڈمنسٹریشن کی فیسیں: 17.73 ارب روپے

📝 اختتامیہ:
وفاقی بجٹ 26-2025 میں معاشی استحکام، محصولات میں اضافہ، ڈیجیٹل معیشت کا فروغ، اور کفایت شعاری کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم پیٹرولیم لیوی اور نئے ٹیکس اقدامات سے عام صارف پر اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے جس پر عوامی اور پارلیمانی سطح پر بحث متوقع ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں