اسلام آباد:یمن تنازع کے پُرامن حل کی حمایت کرتے ہیں:دفتر خارجہ

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان یمن کے تنازع کے پُرامن حل کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ہونے والی علاقائی کاوشوں کو اہم سمجھتا ہے اور تمام فریقوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کا خواہاں ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ نئے سال کے آغاز پر پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا باقاعدہ تبادلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت پاکستان میں موجود 257 بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارتی حکام کے حوالے کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبادلہ ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو 2008 کے قونصلر رسائی معاہدے کے تحت کیا جاتا ہے، جبکہ نیوکلیئر تنصیبات کی فہرستوں کا سالانہ تبادلہ بھی یکم جنوری کو ہوتا ہے۔

ترجمان کے مطابق وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد کے درمیان حالیہ ٹیلی فونک رابطے میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اسی طرح نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ ہوا، جبکہ متحدہ عرب امارات کے صدر کے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران بھی مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو کی گئی۔

ڈھاکا میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے درمیان مصافحے سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ اس حوالے سے ایاز صادق پہلے ہی وضاحت دے چکے ہیں اور دفتر خارجہ اس بیان میں کسی قسم کا اضافہ یا کمی نہیں کرے گا۔

ترجمان نے چین سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان تائیوان سمیت چین کے تمام بنیادی اور حساس امور پر چین کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ایسے اقدامات سے گریز پر زور دیتا ہے جو خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہوں۔

بھارت سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ دولہتی اسٹیٹ پراجیکٹ سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور پاکستان سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی انڈس واٹر کمشنر نے بھارتی ہم منصب کو سوالات ارسال کر دیے ہیں اور ان کے جواب کا انتظار ہے۔

افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ افغان علما کے فتویٰ اور قیادت کے حالیہ بیانات مثبت پیش رفت ہیں، تاہم پاکستان عملی ضمانتوں کا منتظر ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے لیے بھیجا گیا انسانی امدادی قافلہ افغان حکام نے روک لیا، تاہم پاکستان عالمی قوانین کے تحت انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد علاقائی امن، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہے اور تمام مسائل کا حل بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے نکالنے پر یقین رکھا جاتا ہے۔