اسلام آباد :کار سوار باپ بیٹی کے ڈوبنے کا واقعہ، سینیٹ کمیٹی نے ہاؤسنگ سوسائٹی کو طلب کرلیا

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی نے اسلام آباد میں کار سوار باپ بیٹی کے المناک ڈوبنے کے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے متعلقہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے نمائندگان کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا ہے۔ کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمٰن نے واقعے پر تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سینیٹر شیری رحمٰن کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی اور موسمیاتی آفات کے پیش نظر سرکاری اداروں کی ذمہ داریوں پر زور دیا گیا۔

کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمٰن نے اسلام آباد میں پیش آنے والے دلخراش واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کار سوار باپ بیٹی کا پانی میں ڈوب جانا افسوسناک اور تشویشناک ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ متعلقہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کا واقعہ کس دائرہ اختیار میں آتا ہے، اور اس سوسائٹی نے کس ضابطے کے تحت تعمیرات کیں جن کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔

شیری رحمٰن نے مزید کہا کہ ملک بھر میں مون سون کی بارشوں سے تباہ کاریاں جاری ہیں اور سیلاب متاثرین کے لیے ریسکیو آپریشنز تو ہو رہے ہیں، مگر اُن کے بعد تحقیقاتی عمل بھی ضروری ہے۔ انہوں نے اس خیال کو رد کیا کہ یہ تمام واقعات قدرتی آفات ہیں، بلکہ انہوں نے کہا کہ ان میں انسانی کوتاہیاں بھی شامل ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

کمیٹی نے سید پور گاؤں کے اطراف میں ہونے والی تعمیرات پر بھی انکوائری کی ہدایت دی اور آئندہ اجلاس میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے حکام کو بھی طلب کرلیا گیا۔

چیئرپرسن نے زور دیا کہ پاکستان دنیا میں موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سرفہرست ہے، لیکن 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد بھی ہم نے خاطر خواہ سبق نہیں سیکھا۔ انہوں نے تجویز دی کہ مون سون سیزن کے دوران شمالی علاقہ جات میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلاس میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے نمائندگان کو طلب کر کے وضاحت لی جائے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں