اسلام آباد کی عدالت نے مزید 5 یوٹیوب چینلز کی بندش کا حکم معطل کر دیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)اسلام آباد کی مقامی عدالت نے یوٹیوب پر سرگرم مزید پانچ صحافیوں کے چینلز کی بندش سے متعلق حکم معطل کر دیا۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد عبوری ریلیف دیتے ہوئے ایف آئی اے کی استدعا پر مبنی مجسٹریٹ کے 8 جولائی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔

اسلام آباد کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں معروف یوٹیوبرز کی جانب سے چینلز کی بندش کے خلاف دائر اپیلوں پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے صحافی مخدوم شہاب الدین، اوریا مقبول جان، عبدالقادر، عزیر انور اور عمیر رفیق کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ان کے یوٹیوب چینلز کی بندش کے حکم کو معطل کر دیا۔

یہ اپیلیں جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کے 8 جولائی کو دیے گئے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھیں، جن میں ایف آئی اے کی درخواست پر 27 یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔عدالت نے صحافی حبیب اکرم کی اپیل پر سماعت مؤخر کرتے ہوئے ان کی حاضری اور دلائل کیلئے کیس کی تاریخ 14 جولائی مقرر کر دی۔

واضح رہے کہ 8 جولائی کو جاری کردہ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ ایف آئی اے نے ریاست مخالف مواد سے متعلق 2 جون کو انکوائری کا آغاز کیا، جس کے بعد فراہم کردہ شواہد کی بنیاد پر مجسٹریٹ عدالت نے یوٹیوب انتظامیہ کو 27 چینلز بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔

قبل ازیں، اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان اور اسد طور کے چینلز کی بندش کا حکم بھی معطل کرتے ہوئے نیشنل کرائم ایجنسی کو 21 جولائی کے لیے نوٹس جاری کر دیا تھا۔

مطیع اللہ جان اور اسد طور نے اپنی درخواستوں میں مؤقف اپنایا تھا کہ انہیں اس معاملے پر نہ سنا گیا اور نہ ہی کوئی نوٹس جاری کیا گیا، جو آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت شفاف ٹرائل کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

فی الوقت عدالت نے مذکورہ صحافیوں کو عبوری ریلیف دیتے ہوئے یوٹیوب پر ان کی موجودگی بحال رکھنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ کیس کی مکمل سماعت آئندہ تاریخوں میں جاری رہے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں