اسپین سے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ غزہ کا محاصرہ توڑنے کیلئے روانہ

بارسلونا (بین الاقوامی خبر رساں ادارے) – اسپین کے شہر بارسلونا سے انسانی حقوق کے کارکنوں، عالمی شخصیات اور ماحولیاتی مہم کاروں پر مشتمل بحری بیڑہ ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ غزہ کے محاصرے کو توڑنے اور امداد پہنچانے کیلئےروانہ ہوگیا۔

فلوٹیلا کا مقصد ہے کہ فلسطینی عوام کیلئے انسانی راہداری قائم کرنا۔جاری محاصرہ ختم کرنے کی عالمی کوششوں کو تقویت دینا۔غزہ میں جاری انسانی المیے اور نسل کشی کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرانا۔

گریٹا تھنبرگ (سوئیڈن کی ماحولیاتی کارکن)،لیام کننگھم (آئرش اداکار)،ایڈورڈ فرنانڈیز (اسپین کے اداکار)،ادا کولو (بارسلونا کی سابق میئر) اور یورپی قانون ساز اور دیگر عوامی نمائندے اس سفر میں شریک ہیں.

بیڑے میں سیکڑوں کارکن سوار ہیں جو مختلف ممالک سے آئے ہیں۔دیگر جہاز 4 ستمبر کو تیونس اور بحیرہ روم کی بندرگاہوں سے شامل ہوں گے۔متوقع ہے کہ فلوٹیلا وسط ستمبر میں غزہ پہنچے گی۔

گریٹا تھنبرگ کے مطابق “یہ کہانی ہمارے مشن کے بارے میں نہیں بلکہ فلسطین کے بارے میں ہے۔ ہم امداد پہنچانے اور غیر انسانی محاصرہ توڑنے جا رہے ہیں۔ دنیا کو مزید خاموش نہیں رہنا چاہیے۔”

لیام کننگھم نے کہا کہ “یہ دنیا کیلئےایک شرمناک لمحہ ہے کہ انسانی اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہیں کی جا رہی۔ فلوٹیلا کی موجودگی اس ناکامی کا ثبوت ہے۔”

تھییاگو آویلا (برازیل) نے کہا “یہ تاریخ کا سب سے بڑا یکجہتی مشن ہوگا، جس میں پہلے سے کہیں زیادہ لوگ اور جہاز شامل ہیں۔”

ماریانا مورٹاگوا (پرتگالی قانون ساز)کے مطابق”یہ ایک قانونی مشن ہے اور مکمل طور پر بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔”

فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق 44 ممالک میں بیک وقت مظاہرے اور احتجاجی پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے تاکہ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی ظاہر کی جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں