“اسے اُٹھا لو” کے خالق کا اعزاز

احمد فرہاد کو “پوئیٹری انٹرنیشنل” کی جانب سے “پوئیٹ اِن ریزیڈنٹ” کا ایوارڈ ملنا نہ صرف ان کی ادبی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ ان کے اصولی مؤقف اور استقامت کی عالمی سطح پر پذیرائی بھی ہے۔ احمد فرہاد پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع باغ سے تعلق رکھنے والے شاعر اور صحافی ہیں، جو اپنی انقلابی شاعری اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
پاکستان میں ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا—جس میں جبری گمشدگی، تشدد، اور عدالتی نظام کی پیچیدگیاں شامل ہیں—وہ کسی بھی آزاد خیال اور باشعور فرد کے لیے باعث تشویش ہے۔ ان کی اہلیہ سیدہ عروج زینب نے بتایا کہ احمد فرہاد نے ہمیشہ انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کی، چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت کے خلاف ہو ۔
احمد فرہاد صاحب، آپ یقیناً اس ایوارڈ کے مستحق ہیں، لیکن میری رائے میں یہ ایوارڈ بھی آپ کی وجہ سے معتبر سمجھا جائے گا۔ پاکستان میں جس طرح آپ اور آپ کی اہلیہ کو نہ صرف شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا بلکہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے جسمانی تشدد بھی برداشت کرنا پڑا، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ ایسے جری اور ناقابلِ شکست شعرا کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔
آپ کے خلاف جو کچھ اسٹیبلشمنٹ اور اس کے حاشیہ برداروں نے کیا، وہ تو اپنی جگہ، لیکن چند نام نہاد “بائیں بازو” کی جانب جھکاؤ رکھنے والے “انقلابی” شعرا نے بھی آپ کے ساتھ زیادتی کی اور آپ کو شاعر ہی ماننے سے انکار کر دیا۔ مگر قدرت کا انصاف دیکھیے کہ آج احمد فرہاد کو اُس فہرست میں شمار کیا جا رہا ہے جن میں پیبلو نرودا جیسے عظیم شعرا کے نام شامل ہیں۔
یہ ایوارڈ اس بات کا ثبوت ہے کہ سچائی اور اصولوں پر قائم رہنے والے افراد کو بالآخر عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے، چاہے ان کے اپنے ملک میں ان کی آواز کو دبانے کی کتنی ہی کوششیں کیوں نہ کی جائیں۔ یہ ایوارڈ نہ صرف آپ کی ادبی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ آپ کی اصولی مؤقف اور استقامت کی عالمی سطح پر پذیرائی بھی ہے۔
احمد فرہاد کی نظم “اسے اُٹھا لو” اُن کی انقلابی شاعری کا ایک نمایاں نمونہ ہے، جو پاکستان میں جبری گمشدگیوں اور آزادیِ اظہار پر پابندیوں کے خلاف ایک مؤثر احتجاج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس نظم کا ایک مصرعہ “یہ اپنی مرضی سے سوچتا ہے، اسے اُٹھا لو” خاص طور پر مشہور ہوا، جو سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر کیا گیا
یہ نظم نہ صرف ادبی حلقوں میں بلکہ انسانی حقوق کے علمبرداروں کے درمیان بھی ایک علامت بن چکی ہے۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب احمد فرہاد خود لاپتہ ہوئے تو یہی نظم ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، اور ان کی بازیابی کے لیے آواز بلند کرنے والوں کا نعرہ بن گئی:
یہ اپنی مرضی سے سوچتا ہے، اسے اُٹھا لو
’’اُٹھانے والوں‘‘ سے کچھ جُدا ہے، اِسے اُٹھا لو
وہ بے ادب اس سے پہلے جن کو اُٹھا لیا تھا
یہ ان کے بارے میں پوچھتا ہے، اِسے اُٹھا لو
اسے بتایا بھی تھا کہ کیا بولنا ہے، کیا نہیں
مگر یہ اپنی ہی بولتا ہے، اِسے اٹھا لو
جنہیں ’’اُٹھانے‘‘ پہ ہم نے بخشے مقام و خلعت
یہ اُن سیانوں پہ ہنس رہا ہے، اِسے اٹھا لو
یہ پوچھتا ہے کہ امنِ عامہ کا مسئلہ کیوں
یہ امنِ عامہ کا مسئلہ ہے، اِسے اٹھا لو
اِسے کہا تھا جو ہم دکھائیں بس اُتنا دیکھو
مگر یہ مرضی سے دیکھتا ہے، اِسے اٹھا لو
سوال کرتا ہے یہ دیوانہ ہماری حد پر
یہ اپنی حد سے گزر گیا ہے، اِسے اُٹھا لو

اپنا تبصرہ لکھیں