کراچی(بیورورپورٹ)مشہور افسانہ نگار ،ناول نگار،ادیب اور کئی افسانوں کے مجموعوں کی خالق شکیلہ رفیق کراچی میں انتقال کر گئیں۔شکیلہ رفیق کی ولادت سیتا پور،یوپی (ہندوستان) میں ہوئی۔شکیلہ رفیق نے پی آئی پی کالونی کراچی سے میٹرک پاس کیا۔ کراچی کے سرسید کالج سے بی اے کیا۔ سب سے پہلی کہانی 1972 میں احساس کا جرم کے عنوان سے لکھی جو سانحۂ مشرقی پاکستان سے متاثر ہوکر لکھی تھی۔
ان کی دوسری کہانی درد کا ملاپ ہے جو نیا دور کراچی میں شائع ہوئی۔ ایسے بہت سے معیاری رسائل وجرائد ہیں جن میں ان کے افسانے شائع ہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے افسانوں کے ہندی، انگریزی، سندھی زبان میں تراجم بھی ہوئے ہیں۔ شکیلہ رفیق کی چار کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں ’ درد ہے ساتھی اپنا‘ ایک ناولٹ،1975 میں شائع ہوا۔’کچھ دیر پہلے نیند سے‘ (افسانوں کا مجموعہ)، 1985 میں شائع ہوا۔
’ خوشبو کے جزیرے‘(افسانوں کا مجموعہ)، 1985 میں شائع ہوا۔’ قطار میں کھڑا آدمی‘(افسانوں کامجموعہ)، 1998 میں شائع ہوا۔ ریموٹ مجھے دو اس کے علاوہ انھوں نے اپنی سوانح کو قلم بند کرنا شروع کردیا تھا۔افسانہ نگاری کے علاوہ شکیلہ رفیق نے شاعری میں بھی اپنے فکر اور فن کو با کمال انداز میں پیش کیا ہے۔انہوں نے کچھ غزلیں اور چند نظمیں بھی قلم بند کی ہیں،ان غزلوں اور نظموں میں ان کی سوچ ،ان کی فکر اور ان کی شخصیت کے مختلف رنگ جا بجا بکھرے نظر آتے ہیں۔

