نیویارک(نمائندہ خصوصی+الجزیرہ)سلامتی کونسل نے ایران کے جوہری پروگرام پر عائد اقتصادی پابندیاں مستقل طور پر اٹھانے کی قرارداد 4 کے مقابلے میں 9 ووٹ سے مسترد کر دی۔ اس فیصلے کے بعد 28 ستمبر سے یورپی پابندیاں دوبارہ نافذ ہونے کا امکان ہے، جسے ایران نے ’سیاسی جانبداری‘ قرار دیا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران پر اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کی قرارداد سلامتی کونسل میں پیش کی گئی، تاہم 9 اراکین نے اس کے خلاف ووٹ دیا جبکہ صرف روس، چین، پاکستان اور الجزائر نے پابندیاں ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ دو ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب اگست کے آخر میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے خبردار کیا تھا کہ اگر تہران اپنے وعدوں پر عمل درآمد نہ کرے تو پابندیاں دوبارہ نافذ کی جائیں گی۔ 30 روزہ مدت پوری ہونے کے بعد پابندیوں کے ازسرنو نفاذ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے سلامتی کونسل کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک مشترکہ جامع ایکشن پلان (جے سی پی او اے) کے میکانزم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام مکمل طور پر سیاسی جانبداری پر مبنی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران نے ایک ’مناسب اور قابلِ عمل منصوبہ‘ پیش کیا ہے اور وہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔ یورپی ممالک نے مشروط پیشکش کی تھی کہ اگر ایران اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو دوبارہ رسائی دے اور امریکا کے ساتھ مذاکرات بحال کرے تو اسنیپ بیک میکانزم کو چھ ماہ کے لیے مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
سلامتی کونسل کے اس فیصلے کے بعد ایران اور مغربی ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ 28 ستمبر کے بعد یورپی اقتصادی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ سے ایران کی معیشت پر مزید دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔

