اقوام متحدہ: غزہ کرہ ارض پر بھوک سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ قرار

نیویارک/جنیوا (نمائندہ خصوصی+ایجنسیاں) اقوام متحدہ کے امدادی ادارے نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غزہ کو ’’کرہ ارض پر سب سے زیادہ بھوکا مقام‘‘ قرار دیا ہے، جہاں 100 فیصد آبادی قحط کے خطرے سے دوچار ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر (اوچا) کے ترجمان جینز لارکے نے ایک بریفنگ میں کہا“غزہ واحد علاقہ ہے جہاں پوری کی پوری آبادی قحط کے دہانے پر ہے۔ یہ دنیا میں بھوک سے سب سے زیادہ متاثرہ مقام بن چکا ہے۔”

یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنگ کو تقریباً 20 ماہ گزر چکے ہیں، اور اسرائیلی افواج کی جانب سے مارچ میں دوبارہ حملوں کے آغاز نے 6 ہفتوں کی جنگ بندی کو ختم کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں امداد کی فراہمی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔

جینز لارکے کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے 2 مارچ کو لگائی گئی مکمل ناکہ بندی میں جزوی نرمی کے باوجود حالات بدستور خراب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ900 ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی گئی،صرف 600 ٹرک سرحد تک پہنچ سکے،ان میں سے بھی بہت کم امداد تقسیم ہو سکی۔

انہوں نے امداد کی تقسیم کے دوران غزہ میں پیش آنے والی بدنظمی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا“جیسے ہی ٹرک داخل ہوتے ہیں، بے حال لوگ ان پر ہجوم کر لیتے ہیں۔ میں انہیں الزام نہیں دیتا، کیونکہ یہ امداد انہی کی ہے، لیکن تقسیم کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔”

جب اسرائیل اور امریکا کی حمایت سے قائم کردہ نئی تنظیم “غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن” کے ذریعے امداد کی تقسیم پر سوال کیا گیا، تو اوچا کے ترجمان نے اسے ’’غیر مؤثر‘‘، ’’ناکافی‘‘ اور ’’افراتفری پیدا کرنے والا‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو نظر انداز کر کے شروع کیا گیا نیا نظام لوگوں کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہا ہے اور امداد لینے والے افراد لوٹ مار کا شکار بن رہے ہیں۔

ادھر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اسرائیل کو “مکمل چھوٹ” دیے جانے پر خبردار کیا ہے۔ سنگاپور میں ایک اعلیٰ دفاعی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا“اگر ہم غزہ کو اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں، اور اسرائیل کو بلا روک ٹوک کارروائی کی اجازت دیتے ہیں تو ہم مغرب کی اخلاقی ساکھ کھو دیں گے۔”

انہوں نے دوہرے معیار کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے اصولوں پر یکساں طور پر عمل کرے، چاہے فریق کوئی بھی ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں