کیلگری (سی بی سی نیوز / سی ٹی وی / گلوبل نیوز) البرٹا میں ہزاروں اساتذہ اور عوامی تعلیم کے حامی ہفتے کے روز صوبائی وزیرِ تعلیم دیمیٹریوس نیکولائیڈیز کے حلقے کیلگری بو میں جمع ہوئے، جہاں انہوں نے حکومت کی متوقع “بیک ٹو ورک” قانون سازی کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
یہ مظاہرہ پبلک انٹرسٹ البرٹا کے زیرِ اہتمام کیا گیا، جس میں البرٹا ٹیچرز ایسوسی ایشن (ATA) کے اراکین اور رضاکاروں نے بھرپور شرکت کی۔ مظاہرین نے علاقے میں گھر گھر جا کر عوامی تعلیم کے حق میں پیغامات پہنچائے اور پیلے رنگ کے احتجاجی بورڈ تقسیم کیے۔
صوبے بھر کے 51 ہزار سے زائد سرکاری، علیحدہ اور فرانکوفون اساتذہ گزشتہ تین ہفتوں سے ہڑتال پر ہیں، جس کے باعث تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار طلبہ تعلیم سے محروم ہیں۔
پبلک انٹرسٹ البرٹا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بریڈلی لافورچون نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “یہ وزیرِاعظم ڈینیئل اسمتھ اور وزیرِ تعلیم نیکولائیڈیز کی ہڑتال ہے۔ ان کے پاس اسے شروع ہونے سے پہلے ختم کرنے کا اختیار تھا، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اب تین ہفتے سے ہم فنڈنگ، ہجوم زدہ کلاسوں اور مساوی نظامِ تعلیم کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پیر کے روز “بل 2” یا “بیک ٹو اسکول ایکٹ” پیش کرنے جا رہی ہے، جو اساتذہ کے ہڑتال کے حق کو ختم کر دے گا۔ “ہم یہاں انہیں جوابدہ ٹھہرانے آئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ قانون کے زور سے نہیں بلکہ بات چیت سے مسئلہ حل کریں۔”
احتجاج کے موقع پر نیکولائیڈیز کے استعفے کے لیے دستخطی مہم کے منتظمین بھی موجود تھے۔ یہ البرٹا کی تاریخ کا پہلا باضابطہ ریکال پٹیشن ہے، جو 23 اکتوبر کو منظور ہوا۔ منتظمین کے پاس 21 جنوری 2026 تک کا وقت ہے تاکہ وہ 16 ہزار 6 دستخط جمع کر سکیں، جو حلقے کے 60 فیصد ووٹرز کے برابر ہیں۔
دوسری جانب، وزیرِاعظم ڈینیئل اسمتھ نے ہفتے کے روز اپنے ریڈیو پروگرام “یور پروونس، یور پریمیئر” میں اعلان کیا کہ حکومت پیر کے روز “بیک ٹو ورک” قانون ضرور پیش کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ “ہمیں اساتذہ کا پیغام سنائی دیا ہے کہ مسئلہ کلاسوں کی پیچیدگی کا ہے، مگر ہر مسئلہ مذاکرات کی میز پر حل نہیں ہو سکتا۔ ہمیں والدین، طلبہ اور ٹیکس دہندگان کے حقوق میں توازن رکھنا ہے۔”
وزیرِاعظم نے بتایا کہ حکومت نے اساتذہ کو چار سال میں 12 فیصد تنخواہ اضافہ اور 3,000 نئے اساتذہ کی بھرتی کی پیشکش کی ہے۔ مزید برآں، ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی جو اسکول بہ اسکول اور کلاس بہ کلاس مسائل کا جائزہ لے کر عملی تجاویز پیش کرے گی، جن میں چھوٹی کلاسز، اضافی اسسٹنٹ اساتذہ، اور خصوصی طلبہ کے لیے سہولیات کی بہتری شامل ہوں گی۔
ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے “بیک ٹو ورک” قانون منظور کر لیا تو یہ نہ صرف اساتذہ کے آئینی حقِ احتجاج کو محدود کرے گا بلکہ صوبے میں مزدور یونینوں کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈالے گا۔

