البرٹا میں عوامی تعلیم کیلئےہزاروں افراد کا احتجاج، اساتذہ کی ہڑتال کا خطرہ

ایڈمونٹن، البرٹا (نامہ نگار)البرٹا کی اسمبلی کے سامنے ہزاروں افراد نے عوامی تعلیم کے تحفظ کیلئےاحتجاج کیا، کیونکہ صوبے میں اساتذہ کی ممکنہ ہڑتال قریب ہے۔ احتجاج اس وقت ہوا جب البرٹا ٹیچرز ایسوسی ایشن (ATA) اور صوبائی حکومت کے درمیان نئے اجتماعی معاہدے پر مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔

نئے معاہدے میں تنخواہوں، کلاسز کے بڑھتے ہوئے سائز اور کلاس روم کی پیچیدگیوں کیلئے اضافی عملے کی بھرتی جیسے مسائل تنازعہ کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ پچھلا معاہدہ اگست 2024 میں ختم ہو چکا ہے۔

ATA لوکل 37 کی صدر ہیٹر کوئن نے اسمبلی کے دروازے پر خطاب کرتے ہوئے کہا، “عوامی تعلیم ایک مضبوط جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے۔ ہم البرٹا کے ہر فرد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف آواز اٹھائیں، بلکہ عوامی تعلیم کے مستقبل کیلئے لڑیں تاکہ ہمارے بچے، خاندان اور آئندہ نسلیں تعلیم تک مساوی رسائی حاصل کر سکیں۔”

یہ احتجاج اس دن سے ایک روز قبل ہوا جب البرٹا کے 51000 اساتذہ ہڑتال کیلئے جانے والے ہیں۔ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو پیر کے روز صوبے کی تاریخ میں پہلی مکمل اساتذہ ہڑتال ہوگی۔

صوبائی وزیر مالیات نیٹ ہورنر کے دفتر کے بیان کے مطابق، حکومت نے ایسوسی ایشن سے کہا ہے کہ وہ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں، تاہم وہ رسمی مذاکرات کیلئے دستیاب نہیں تھے۔ بیان میں کہا گیا، “ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہمارے بچے کلاس روم میں رہیں۔ ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں جیسے ہی ATA قیادت تیار ہو گی۔”

ایلبرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ حکومت نے ایسوسی ایشن سے ہڑتال روکنے کی درخواست کی ہے اور ممکنہ ہڑتال کو “ہار-ہار-ہار کی صورتحال” قرار دیا، جس سے اساتذہ، والدین اور طلبہ سب متاثر ہوں گے۔

والدین اور اسکول ہڑتال کے ممکنہ اثرات کیلئے تیار ہیں، جبکہ ATA صوبے میں 5000 سے زائد نئے اساتذہ کی بھرتی کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ کلاس سائز کی سفارشات پوری کی جا سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں