پنجاب میں تاریخ کا بدترین سیلاب گزر چکا، اس کی کہانیاں ابھی جاری ہیں، اب تک کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق27شہر 5ہزار گاؤں، 25لاکھ افراد اور لاکھوں جانور متاثر ہوئے،نہ جانے کتنے کھیت کھلیان اجڑ گئے، گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے اور ہزاروں لوگ اب تک ریلیف کیمپوں تک محدود ہیں، اب جبکہ پانی اتر چکا اور ہنگامی صورتحال کسی حد تک ختم ہو گئی ہے تو اصل امتحان حکومت اور انتظامیہ کے لئے اب شروع ہوا ہے، یہ امتحان تعمیر نو، ترقی کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے اور متاثرین کو باعزت زندگی دینے کا ہے،اس مرحلے پر مختلف محکموں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ نہ صرف متاثرہ علاقوں کو دوبارہ کھڑا کیا جا سکے بلکہ مستقبل میں بھی ایسے سانحات کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
تنقید اپنی جگہ پر مگر پنجاب میں مختلف محکمے، ادارے اور ایجنسیاں اپنی اپنی بساط کے مطابق کام جاری رکھے ہوئے ہیں،ریلیف آپریشن،امداد، سہارا دینے کے لئے جہاں سرکاری سطح پر کام ہو رہا ہے وہاں غیر سرکاری ادارے،تنظیمیں اور مخیر حضرات بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے،گو پنجاب کی دھرتی سے کھربوں،اربوں کمانے والے سیٹھ ابھی تک سامنے نہیں آئے اور لگتا نہیں کہ وہ اپنا حصہ ڈالیں مگر المصطفیٰ جیسے اداروں اور پنجاب کے ایک ریٹائرڈ صوبائی سیکرٹری زمان خان وٹو جیسی شخصیات کی خدمات کو جتنا بھی سراہا جائے، ان کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے،پنجاب کے ایک بڑے سیٹھ، جنہیں اس دھرتی نے اپنی بساط سے زیادہ دیا ہے،مجھے یاد پڑتا ہے کہ لاہور کی انڈسٹریل سٹیٹ میں بہت عرصہ قبل ایک فیکٹری گرنے کی وجہ سے کئی مزدور اس کے ملبے تلے دب گئے،تو انہیں مشورہ دیا گیا کہ ان کے لئے وہ کچھ کریں تو انہوں نے بے حسی سے جواب دیا حکومت ان کی مدد کرے ہم تو حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں،ایسے سیٹھوں اور انکے ریٹائرڈ سرکاری مشیروں کے،،کارناموں،، پر بھی ہمیں ضرور لکھنا چاہئے،دوسری طرف اسی پنجاب میں بڑے بڑے نیک نام صنعتکار اور تنظیمیں موجود ہیں جو کہے سنے بغیر خدمت خلق کے لئے نکل پڑتے ہیں ”المصطفیٰ“ کے سربراہ عبدالرزاق ساجد، محمد نواز کھرل اور ہماری بہن نصرت سلیم نے جس طرح سیلاب زدگان کی خدمت کے لئے محنت کی وہ انتہائی قابل تحسین ہے، کافی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ اس پر لکھوں مگر میرے دوست اور معروف کالم نگار مظہر برلاس بازی لے گئے،اسی طرح پنجاب کی صوبائی سروس سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ سیکرٹری زمان وٹو نے بھی اپنی مدد آپ کے تحت اپنے علاقے میں قابل تقلید کام کیا۔
”المصطفیٰ“ اس وقت عالمی سطح پر دکھی انسانیت کی خدمت کا ایک بڑا نام بن چکا ہے، اس کی روشنی دنیا بھر میں پہنچ چکی ہے اور خدمتِ خلق اس کا مشن ہے،اس ٹرسٹ نے سیلاب زدہ علاقوں میں قدم رکھتے ہی فلاح و بہبود کی نئی تاریخ رقم کی اور ثابت کر دیا کہ انسانیت کی خدمت ہی اصل عبادت ہے، اس عظیم ادارے کی قیادت عبدالرزاق ساجد کر رہے ہیں،ان سے میرا تعلق طلبہ سیاست کے زمانہ سے ہے،یہ انجمن طلباء اسلام کے صدر رہ چکے ہیں اور آج اپنی تمام توانائیاں صرف دکھی انسانیت کی خدمت پر مرکوز کیے ہوئے ہیں، ان کا ویژن اور قیادت ہے جس نے اس ٹرسٹ کو دنیا کے سب سے بڑے اور متحرک فلاحی اداروں کی صف میں کھڑا کیا ہے۔ سیلاب کے موقع پر المصطفیٰ نے وقت ضائع کیے بغیر پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں ریلیف آپریشن کا آغاز کیا، متاثرین کو سہارا دیا بلکہ انہیں یہ احساس دلایا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں، ان کے دکھ بانٹنے والے بھی موجود ہیں۔ المصطفیٰ کی سرگرمیاں کسی ایک ضلع یا شہر تک محدود نہیں رہیں، مظفرگڑھ کی ویران بستیاں، ملتان اور خانیوال کے اجڑے علاقے، سیالکوٹ اور پسرور کے بے سہارا خاندان، نارووال اور قصور کے زیرِ آب دیہات، وہاڑی اور بورے والا کے ریتلے کنارے، لاہور کی نواحی بستیاں اور جھنگ کے کھیت، سب جگہ خدمت کے چراغ روشن کیے گئے۔ ٹرسٹ کے سینئر راہنما نواز کھرل کے مطابق ڈیڑھ سو سے زائد مقامات پر فلڈ ریلیف کیمپ قائم کیے گئے، جہاں خیمے، بستر، صاف پانی، خوراک اور بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ہر متاثرہ خاندان کو کم از کم ایک پناہ گاہ میسر آئی تاکہ وہ کھلے آسمان تلے مزید بھٹکنے کے بجائے کچھ سکون حاصل کر سکیں، یہاں دسترخوان بچھا کر متاثرین کو عزت اور وقار کے ساتھ کھانا کھلایا جاتا ہے۔ اس خدمت نے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ دی، خواتین کی آنکھوں میں امید جگائی اور بزرگوں کے دلوں کو سکون بخشا، میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے، جہاں ماہر ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی ٹیمیں دن رات مصروف ہیں تاکہ وبائی امراض اور دیگر بیماریوں کے خطرات کم کیے جا سکیں۔ یہ ٹرسٹ صرف انسانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ جانوروں کو بھی بھوک سے بچانے کے لیے سرگرم عمل ہے، فصلوں کی تباہی کے باعث مویشی بھی بے یارومددگار ہوگئے تھے، نارنگ منڈی اور گرد و نواح کے دیہات میں ٹرسٹ نے منوں کے حساب سے چارہ تقسیم کیا تاکہ کسان اپنے مویشیوں کو زندہ رکھ سکیں، یہ اقدام واضح کرتا ہے کہ المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ زندگی کے ہر روپ کی قدر کرتا ہے، ٹرسٹ کے رضاکار خاموش فرشتوں کی طرح کام کرتے ہیں، پچھلے کئی ہفتوں سے یہ رضاکار دن رات سیلاب زدگان کے ساتھ ہیں، ان کا جذبہ صرف امداد فراہم کرنا نہیں بلکہ امید جگانا اور حوصلہ دینا ہے، ان کے چہروں پر مسکراہٹ اور رویے میں خلوص متاثرین کے زخموں پر مرہم کا کام کرتے ہیں۔ المصطفیٰ ٹرسٹ نے ثابت کیا ہے کہ خدمتِ انسانیت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، یہ رنگ، نسل، زبان یا علاقے کی قید سے آزاد ہے، خدمت کا اصل مقصد اجڑی ہوئی زندگیاں سنوارنا، ٹوٹے خوابوں کو جوڑنا اور مایوسی میں امید پیدا کرنا ہے، یہی وہ روشنی ہے جو تاریکیوں میں شمع کی مانند جلتی ہے اور ہر دل کو سکون بخشتی ہے، یہ خدمت محض وقتی ریلیف نہیں ایک ہمت اور حوصلہ ہے۔
اب ذکر ریٹائرڈ سیکرٹری زمان وٹو کا،یہ صاحب دوران سروس بھی جہاد کرتے رہے اور اب ریٹائرڈ ہو کر گھر بیٹھنے کی بجائے سیلاب میں اپنے علاقے کی خدمت میں مصروف ہیں،یہ سروس کے دوران بڑے بڑے سیٹھوں،مل اونروں اور مافیا سے لڑ کر عام آدمی کو ریلیف دلاتے رہے اور براہ راست عوامی خدمت میں مصروف ہیں،اپنے علاقے کے لوگوں کو متحرک کر کے کام کر رہے ہیں، خیمے،خوراک اور جانوروں کو چارہ بانٹ رہے ہیں،انکی کاوشیں اس بات کا زندہ ثبوت ہیں کہ انسانیت کی خدمت ہی اصل کامیابی ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں نے اگر ایک طرف غم و اندوہ کی فضا پیدا کی تو دوسری طرف ایسی شخصیات کی شکل میں امید اور روشنی کا دروازہ بھی کھولا،یہ امدادی سامان نہیں دے رہے بلکہ انسانوں کے دلوں کو سہارا دے رہے ہیں۔ آج جب ہم سیلاب کی تباہ کاریوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں دکھ اور بربادی کے ساتھ ساتھ خدمت اور محبت کی کئی حسین کہانیاں بھی دکھائی دیتی ہیں، جن میں کچھ کہانیاں المصطفیٰ ٹرسٹ کے عبدالرزاق ساجد، نواز کھرل، نصرت سلیم اور ہمارے قابل فخر ریٹائرڈ سیکرٹری زمان وٹو کی ہیں۔

