پنجاب کے چھوٹے بڑے شہر ہوں یا دیہات اور قصبے ، مساجد ہمیشہ سے سب کیلئے مرکز و محور رہی ہیں، ہمارے قدیم معاشرتی ڈھانچے کو سمجھنا ہو تو اس کی جڑیں دیہات اور چھوٹے قصبوں میں پیوست نظر آتی ہیں جہاں مسجد محض عبادت گاہ نہیں بلکہ سماجی، اخلاقی ، فکری مرکز کی حیثیت رکھتی ہے اور امام مسجد وہاں کلیدی کردار ہوتا ہے، جو صرف نماز کا پیشوا نہیں بلکہ پورے گاؤں میں رائے عامہ کا لیڈر، ثالث، معلم،حکیم اور رہنما سمجھا جاتا ہے۔اسلام کی آمد کے ساتھ ہی مسجد کو معاشرتی نظم کا بنیادی ستون قرار دیا گیا، رسول اکرم کے دور میں مسجد نبویؐ نہ صرف عبادت کا مقام تھی بلکہ وہاں تعلیم، مشاورت، فیصلے اور سماجی اصلاح کے تمام امور انجام پاتے تھے، یہی روایت برصغیر میں اسلام کے پھیلاؤ کے ساتھ دیہات تک پہنچی، پنجاب کے دیہات میں مسجد سب سے پہلی اجتماعی عمارت ہوتی تھی، جس کے گرد پورا گاؤں آباد ہوتا تھا،تاریخی طور پر دیہی معاشرے میں امام مسجد کو غیر معمولی احترام حاصل رہا ہے، وہ نکاح پڑھاتا، تنازعات میں ثالثی کرتا، بچوں کو قرآن و اخلاقیات سکھاتا اور مشکل گھڑی میں لوگوں کو صبر، برداشت اور عدل کا درس دیتا، یہی وجہ تھی کہ ماضی میں زمیندار اور کاشتکار امام مسجد کو اپنی زرعی پیداوار میں شریک سمجھتے تھے،فصل کی کٹائی پر اس کا حصہ نکالنا احسان تھا نہ خیرات، بلکہ ایک تسلیم شدہ سماجی حق سمجھا جاتا تھا، گندم، چاول، مکئی یا دیگر اجناس میں امام کا حصہ باقاعدہ رکھا جاتا تاکہ وہ مالی فکر سے آزاد ہو کر دینی اور سماجی ذمہ داریاں ادا کر سکے۔دیہات میں جہاں ریاستی اداروں کی موجودگی کمزور رہی، وہاں امام مسجد نے اخلاقی ریاست کا کردار ادا کیا، وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا، فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رکھتا اور سماجی بگاڑ کو روکنے کی کوشش کرتا ، اس کی بات اس لیے وزن رکھتی تھی کہ وہ ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر اجتماعی بھلائی کی بات کرتا تھا، یہی وجہ ہے کہ دیہی سیاست، سماجی فیصلوں اور حتیٰ کہ انتخابی رجحانات پر بھی امام مسجد کا اثر نمایاں رہا ہے،بدقسمتی سے وقت کے ساتھ دیہی معاشرتی اقدار کمزور ہوئیں، معاشی دباؤ بڑھا اور امام مسجد کا وہ معاشی تحفظ ختم ہوتا چلا گیا جو کبھی اس کے وقار کی بنیاد تھا۔ اس کے باوجود آج بھی پنجاب کے دیہات اور اب شہروں میں امام مسجد ایک زندہ کردار ہے، جس کی آواز اب بھی سنی جاتی ہے ،اسکی رہنمائی پر لوگ اعتماد کرتے ہیں،اگر معاشرے میں سماجی ہم آہنگی، اخلاقی تربیت اور مثبت تبدیلی مطلوب ہے تو امام مسجد کے کردار کو سمجھنا، تسلیم کرنا اور مضبوط بنانا ناگزیر ہے، تاریخ گواہ ہے کہ مضبوط مسجد اور باوقار امام، بہتر اور بااخلاق معاشرے کی ضمانت ہوتے ہیں۔
پنجاب حکومت نے مساجد کے امام صاحبان کے مسائل اور معاملات کو سمجھتے ہوئے ان کے لئے پچیس ہزار ماہانہ اعزازیہ کارڈ جاری کر کے چھکا مارا ہے جس سے حکومت کو سیاسی مگر اس سے زیادہ قومی فائدہ حاصل ہو گا ، مساجد اور امام مسجدوں کی تعداد ہزاروں ہے مگر ماضی میں ان کے ساتھ ریاست کا تعلق غیر منظم اور غیر رسمی رہا، اعزازیہ کارڈ کے ذریعے پہلی مرتبہ ائمہ مساجد کو ایک باقاعدہ نظام کا حصہ بنایا گیا، اس اقدام سے نہ صرف ان کی رجسٹریشن اور شناخت ممکن ہوئی بلکہ ریاست اور مذہبی قیادت کے درمیان ایک منظم اور باوقار رابطہ قائم ہوا، یہ اعتماد، شمولیت اور ذمہ داری کا مظہر ہے، اس نظام کے نتیجے میں نفرت انگیز تقاریر کی حوصلہ شکنی، فرقہ وارانہ اشتعال سے بچاؤ اور مثبت مذہبی بیانیے کے فروغ میں واضح بہتری دیکھنے میں آ ئے گی ، یہ ایک ایسا قدم ہے جس کے اثرات فوری نہیں مگر دیرپا ہیں، فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، طاقت کے بجائے تدبر کے زریعے ایک مسلسل چیلنج رہا ہے،جس سے نمٹنا اب آسان ہو گا۔
سیکرٹری داخلہ پنجاب احمد جاوید قاضی پنجاب میں امن، ہم آہنگی اور انتظامی بصیرت کی ایک مضبوط مثال بن کر سامنے آئے ہیں ،پنجاب جیسے بڑے، متنوع اور آبادی کے لحاظ سے حساس صوبے میں محکمہ داخلہ کی ذمہ داری محض ایک انتظامی عہدہ نہیں بلکہ ریاست اور معاشرے کے درمیان توازن قائم رکھنے کی ایک نازک ذمہ داری ہوتی ہے، یہ وہ محکمہ ہے جہاں ایک غلط فیصلہ فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دے سکتا ہے اور ایک درست قدم معاشرتی ہم آہنگی کی بنیاد رکھ سکتا ہے، ایسے ماحول میں اگر کوئی افسر نہ صرف نظام کو چلاتا رہے بلکہ اصلاح، اعتماد اور استحکام کی فضا بھی قائم کرے تو وہ محض کامیاب نہیں بلکہ مثالی سرکاری افسر کہلانے کا حق دار ہوتا ہے، احمد جاوید قاضی آج اسی تعریف پر پورا اترتے دکھائی دیتے ہیں،وہ ان چند افسروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کارکردگی، دیانت اور انتظامی بصیرت سے اپنی الگ شناخت قائم کی، وہ اس روایت سے ہٹ کر ہیں جہاں اختیارات کا مظاہرہ ہی طاقت سمجھا جاتا ہے، ان کے کام کا انداز خاموش، سنجیدہ اور نتیجہ خیز ہے، وہ کم بولتے ہیں مگر جو فیصلے کرتے ہیں ان کے اثرات دور رس ہوتے ہیں۔
محکمہ داخلہ پنجاب ہمیشہ سیاسی، سماجی اور مذہبی دباؤ کا مرکز رہا ہے۔ فرقہ وارانہ معاملات، مذہبی اجتماعات، جلوس، مدارس، مساجد، امن و امان اور داخلی سلامتی ،یہ سب وہ معاملات ہیں جو کسی بھی وقت ایک انتظامی بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں، ماضی میں ایسے مسائل کو عموماً وقتی اقدامات یا محض سیکیورٹی زاویے سے حل کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں مسائل دب تو جاتے تھے مگر ختم نہیں ہوتے تھے۔ احمد جاوید قاضی نے اس سوچ کو بدلنے کی کوشش کی، انہوں نے محکمہ داخلہ کو محض کنٹرولنگ ادارہ رکھنے کے بجائے ایک سہولت کار اور مصالحتی کردار میں ڈھالنے پر توجہ دی، ان کا بنیادی نکتہ یہ رہا کہ پائیدار امن طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد، مکالمے اور شراکت سے حاصل ہوتا ہے۔ احمد جاوید قاضی نے مدارس کے معاملے کو محض رجسٹریشن یا نگرانی تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں قومی دھارے کے قریب لانے کے لیے اعتماد سازی کو بنیاد بنایا، مختلف مکاتب فکر کے مدارس کے درمیان روابط بڑھانے، مشترکہ ضابطہ اخلاق پر بات چیت، اور ریاستی قوانین سے متعلق آگاہی جیسے اقدامات ان کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، زبردستی یا دباؤ کے بجائے مشاورت اور شمولیت کو ترجیح دی گئی، جو کسی بھی پائیدار اصلاح کی اصل بنیاد ہوتی ہے۔ انتظامی بصیرت ، ذاتی دیانت اور پیشہ وارنہ سنجیدگی احمد جاوید قاضی کی سب سے نمایاں خوبی ہے وہ تشہیر کے خواہاں ہیں نہ خود کو خبروں کا حصہ بنانا ان کی ترجیح ہے، ان کی کارکردگی کا اندازہ ان فیصلوں سے لگایا جا سکتا ہے جو خاموشی سے مگر مؤثر انداز میں نافذ ہوئے۔
احمد جاوید قاضی جس محکمے میں بھی رہے کمال کرتے رہے ،وہ ان چند افسروں میں شامل ہیں جنہوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر نیت صاف، وژن واضح اور عمل مستقل ہو تو سرکاری عہدہ بھی معاشرتی استحکام اور مثبت تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے، اب وہ ریاست اور منبر کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں ، اب ان کے محکمے کا اہم کام امام مسجد کارڈ اور اعزازیہ ہے جسے بجا طور پر ایک سادہ مگر انقلابی قدم بھی کہا جا سکتا ہے۔

