امریکا، روس جوہری ہتھیاروں کا معاہدہ ختم، نئی اسلحہ دوڑ کے خدشات بڑھ گئے

واشنگٹن/ماسکو (غیر ملکی خبر ایجنسی، اقوام متحدہ، چینی وزارت خارجہ)امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تعداد محدود رکھنے والا آخری معاہدہ اپنی مدت پوری ہونے کے بعد ختم ہوگیا، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں نئی اسلحہ دوڑ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا اور روس کے مابین اسٹریٹجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی (نیو اسٹارٹ) کے خاتمے سے عالمی سطح پر اسلحہ کنٹرول کے نظام کو شدید دھچکا لگا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے معاہدے کی میعاد ختم ہونے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا روس کے ساتھ اسٹریٹجک استحکام پر بات چیت دوبارہ شروع کرے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے معاہدے کے خاتمے کو عالمی امن و سلامتی کے لیے نہایت سنگین لمحہ قرار دیا اور امریکا و روس سے مطالبہ کیا کہ وہ بلا تاخیر کسی متبادل فریم ورک پر مذاکرات شروع کریں۔

واضح رہے کہ نیو اسٹارٹ معاہدہ 2010 میں امریکا اور روس کے درمیان طے پایا تھا، جس کا مقصد جوہری ہتھیاروں میں کمی اور تباہ کن جوہری جنگ کے خطرے کو کم کرنا تھا۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے لیے تعینات اسٹریٹجک جوہری وارہیڈز کی حد 1550 مقرر تھی جبکہ ڈیٹا کے تبادلے، پیشگی اطلاعات اور سائٹ پر معائنوں جیسے شفافیت کے اقدامات بھی شامل تھے۔ معاہدے کے خاتمے کے ساتھ ہی واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان اسلحہ کنٹرول کے اس اہم تعاون کا عملی طور پر خاتمہ ہوگیا ہے، جس نے سرد جنگ کے بعد استحکام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔