امریکا میں تعینات برطانوی سفیر جیفری ایپسٹین سے تعلقات پر برطرف

لندن/واشنگٹن ( نمائندہ خصوصی+رائٹرز+اے ایف پی) –برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکا میں تعینات برطانوی سفیر پیٹر مینڈلسن کو سزا یافتہ امریکی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات کی بنیاد پر برطرف کر دیا۔ یہ فیصلہ ان ای میلز اور خطوط کے منظرعام پر آنے کے بعد کیا گیا جن میں مینڈلسن نے ایپسٹین کو ’میرا بہترین دوست‘ کہا اور اس کی سزا کے دوران مدد کرنے کے مشورے دیے تھے۔

رائٹرز کے مطابق، برطانوی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ نئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیٹر مینڈلسن کے ایپسٹین کے ساتھ تعلقات ان معلومات سے زیادہ گہرے تھے جو ان کی تعیناتی کے وقت حکومت کو معلوم تھیں۔ ای میلز میں یہ بھی سامنے آیا کہ 2008 میں جب ایپسٹین کو نابالغ لڑکیوں سے جنسی تعلق کی درخواست کے جرم میں 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی تو مینڈلسن نے انہیں قبل از وقت رہائی حاصل کرنے کے مشورے دیے تھے۔

وزارتِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مینڈلسن کی جانب سے ایپسٹین کی سزا کو غلط قرار دینا اور اسے چیلنج کرنے کے قابل کہنا نئی معلومات ہیں۔ وزیراعظم اسٹارمر نے ان شواہد کو سامنے آنے کے بعد برطرفی کا حکم دیا۔

پیٹر مینڈلسن، جو لیبر پارٹی کے دورِ حکومت میں ٹونی بلیئر کے قریب سمجھے جاتے تھے اور پارٹی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں، نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ انہیں ایپسٹین سے طویل تعلق پر گہرا افسوس ہے اور انہیں یہ تعلق جاری نہیں رکھنا چاہیے تھا۔ یہ بیان ابتدائی طور پر وزیراعظم کو مطمئن کرتا نظر آ رہا تھا، لیکن عوامی دباؤ اور بڑھتے سیاسی بحران کے باعث برطرفی ناگزیر ہوگئی۔

اے ایف پی کے مطابق، اس فیصلے سے ایک ہفتہ قبل ہی وزیراعظم اسٹارمر نے اپنی نائب انجلا رینر کے ٹیکس امور پر استعفیٰ کے بعد کابینہ میں بڑی رد و بدل کی تھی۔ لیبر پارٹی کی مقبولیت رائے عامہ میں مسلسل گر رہی ہے اور پاپولسٹ ریفارم یوکے پارٹی نے حالیہ سروے میں لیبر سے سبقت حاصل کر لی ہے۔

تصویر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 8 مئی کو وائٹ ہاؤس میں پیٹر مینڈلسن سے مصافحہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ کو بھی ایپسٹین سے تعلقات پر سوالات کا سامنا ہے اور وائٹ ہاؤس نے اس مبینہ خط کو مسترد کیا ہے جو ٹرمپ کی طرف سے ایپسٹین کے لیے لکھے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ برطرفی برطانیہ اور امریکا کے تعلقات پر اثرانداز ہوسکتی ہے کیونکہ اگلے ہفتے صدر ٹرمپ کا برطانیہ کا سرکاری دورہ متوقع ہے۔ وزیراعظم اسٹارمر کو اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کے پیشِ نظر مزید سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں