کاراکاس( رائٹرز، بی بی سی، بین الاقوامی میڈیا، سوشل میڈیا رپورٹس)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کے بعد امریکی فوج نے وینزویلا پر حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں ہفتے کی علی الصبح دارالحکومت کاراکاس میں متعدد دھماکے سنے گئے، سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے اور جنگی طیاروں کی پروازیں نظر آئیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر کے مطابق شہر کے جنوبی حصے میں ایک بڑے فوجی اڈے کے قریب بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حملوں کا دائرہ کن علاقوں تک محدود رہا۔
بی بی سی کے مطابق کاراکاس میں مقیم صحافی وینیسہ سلوا نے بتایا کہ دھماکے اتنے زور دار تھے کہ ان کا گھر لرز اٹھا، جبکہ وادی میں واقع شہر ہونے کے باعث دھماکوں کی آواز پورے کاراکاس میں گونجتی رہی۔ ان کے مطابق لوگ ایک دوسرے کو پیغامات بھیج کر خیریت دریافت کر رہے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آسمان سے کچھ گرتے دیکھا گیا اور چند سیکنڈ بعد زور دار دھماکا سنائی دیا۔ امریکی صدر اس سے قبل وینزویلا میں زمینی کارروائیوں کے اشارے دے چکے تھے اور صدر نکولس مادورو پر اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔
صدر مادورو نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کے وسیع تیل اور معدنی وسائل تک رسائی کے لیے حکومت کی تبدیلی چاہتی ہے، جبکہ امریکا نے حالیہ ہفتوں میں وینزویلا کے پانیوں میں ناکہ بندی، پابندیوں میں توسیع اور منشیات اسمگلنگ کے الزام میں متعدد بحری اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔
کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ کاراکاس پر بمباری ہو رہی ہے اور فوری عالمی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
امریکی حملوں کے بعد وینزویلا میں قومی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ وینزویلا کی حکومت نے ایک سرکاری بیان میں امریکی کارروائی کو شدید فوجی جارحیت قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری کے سامنے اس کی سخت مذمت کی ہے۔

