شرمالشیخ کانفرنس میں متعدد عالمی رہنماؤں کی شرکت، پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم شہباز شریف نے کی
ٹورنٹو / شرمالشیخ(واشنگٹن پوسٹ، رائٹرز، گارڈین، اے پی) — مصر کے شہر شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ امن سربراہی کانفرنس میں امریکہ، مصر، قطر اور ترکی کے سربراہان نے اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ امن معاہدے پر باضابطہ دستخط کیے۔
یہ معاہدہ ایک اہم موڑ ہے، جسے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی، انسانی امداد کے تسلسل اور امن کی راہ ہموار کرنے کیلئےایک سنگِ بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔ معاہدے کی تقریب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، صدر عبدالفتاح السیسی (مصر)، امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی (قطر) اور صدر رجب طیب اردوان (ترکی) نے مشترکہ طور پر دستخط کیے۔

کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم شہباز شریف نے کی۔ دیگر شرکا میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس،عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط،فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون،برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر،انڈونیشیا کے صدر پرا بُو سوبیانتو،یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا،جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز،اسپین کے وزیرِ اعظم پیدرو سانچیز،کویت کے وزیرِ اعظم احمد العبداللہ الصباح،اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی،کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی اور عراق کے وزیرِ اعظم محمد شیاع السودانی شامل تھے.
صدر ٹرمپ نے معاہدے کی تقریب میں اپنے خطاب میں کہا کہ یہ دن غزہ کے عوام کیلئے تاریخی ہے۔ انہوں نے مصر کے کلیدی کردار کو سراہا اور یہ امید ظاہر کی کہ امن کی اس راہ پر مشرق وسطیٰ میں ترقی اور استحکام ممکن ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا”دوست ملکوں کے تعاون کے بغیر یہ معاہدہ ممکن نہ تھا۔””ہم نے ایسے معاہدے پہلے کیے ہیں، مگر یہ معاہدہ راکٹ کی طرح اُڑا ہے۔””پہلے پیش گوئیاں کی جاتی تھیں کہ تیسری عالمی جنگ مشرقِ وسطیٰ سے شروع ہوگی، مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔”
انہوں نے کہا کہ پچھلے ماہ جو کچھ ہوااس کی کوئی توقع نہیں تھی مگر آج ہم نے وہ ممکن بنا دیا جو بہت سے لوگوں نے ناممکن سمجھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں جنگ ختم ہوچکی ہے، انسانی امداد پہنچ رہی ہے، یرغمالی افراد واپس لوٹے ہیں اور لوگ اپنے گھروں کو واپس آرہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نےکہا کہ یہ دن غزہ کے عوام کی تاریخ میں سنہری باب ہے اور صدر ٹرمپ کو امن کا ٹھوس علمبردار قرار دیا۔ انہوں نے پھر سے صد توجہ دلائی کہ پاکستان نے پہلے بھی صدر ٹرمپ کا نام نوبل امن انعام کیلئےپیش کیا تھا، اور وہ دوبارہ اس کی سفارش کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے نہ صرف جنوبی ایشیا میں امن کی راہیں کھولیں بلکہ اب انہوں نے مشرق وسطیٰ میں لاکھوں زندگیوں کو سنبھالا ہے۔
اس کانفرنس کا مقصد غزہ کی پٹی میں جنگ بند کرنا، مشرقِ وسطیٰ میں استحکام لانا اور علاقائی سلامتی کا نیا دور شروع کرنا ہے، اور اس مقصد کے تحت امریکی صدر کے پیش کردہ امن معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
قبل ازیں، صدر ٹرمپ اسرائیل بھی گئے تھے جہاں انہوں نے پارلیمنٹ سے خطاب کیا، اور غزہ امن معاہدے کو مشرق وسطیٰ میں امن کی نئی امید قرار دیا۔
شرم الشیخ ایئرپورٹ پر، وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال مصری وزیرِ یوتھ و اسپورٹس ڈاکٹر اشرف صبّاحی، پاکستانی سفیر عامر شوکت اور اعلیٰ سفارتی عملے نے کیا۔
معاہدے پر دستخط کے بعد عالمی رہنماؤں کے ہمراہ خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج وہ دن ہے جسے اس خطے اور دنیا بھر کے لوگ سنکر دعائیں کرتے رہے۔اس معاہدے کی تقریب میں اسرائیل اور حماس کے نمائندے شریک نہیں ہوئے۔ نیتن یاہو نے آخری لمحات میں شرکت سے معذرت کی۔

