واشنگٹن / دمشق (ایجنسیاں)امریکہ نے شام پر عائد اقتصادی پابندیوں میں جزوی نرمی کا اعلان کرتے ہوئے ایک اہم قدم اٹھایا ہے، جس کا مقصد شام کے عوام کو انسانی امداد، مالی تعاون اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے ایک “جنرل لائسنس 25” جاری کیا ہے، جس کے تحت شام کے بعض سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو معاشی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے، بشرطیکہ وہ دہشت گردی یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث نہ ہوں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کے مطابق، “یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے تاکہ شام کے شہریوں کو ضروری سہولیات میسر آسکیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔”
یہ فیصلہ اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ شام میں حالیہ سیاسی تبدیلی کے بعد ایک عبوری حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے۔ نئے عبوری صدر احمد الشراء نے عالمی برادری کے ساتھ باہمی احترام اور تعاون کی بنیاد پر تعلقات کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
شام کی وزارت خارجہ نے امریکی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ، “یہ ایک مثبت پیش رفت ہے جو شام کے عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرے گی اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ اعتماد کی فضا قائم کریگی۔”
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کے بعد شام میں غیر ملکی سرمایہ کاری، معاشی بحالی، اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ خاص طور پر توانائی، تعمیراتی شعبے اور بینکاری نظام میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
یہ نرمی ابتدائی طور پر 180 دن کیلئےدی گئی ہے، جس کا دوبارہ جائزہ لیا جائیگا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر شام کی حکومت جمہوری اصلاحات، انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کیلئےسنجیدہ اقدامات جاری رکھتی ہے تو مزید رعایتیں بھی دی جا سکتی ہیں۔

