اوٹاوا (نامہ نگار+رائٹرز) – وزیراعظم کینیڈا مارک کارنی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے میں ٹیکسوں کے بغیر پیش رفت مشکل ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ امریکی رویے اور درآمدی محصولات کی پالیسیوں کے تناظر میں کسی خفیہ تجارتی حکمتِ عملی کو برقرار رکھنا چیلنج بن چکا ہے۔
تفصیل کے مطابق، وزیراعظم کارنی نے بتایا کہ یکم اگست سے کینیڈا کے درآمدی سامان پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد ہونے کا امکان ہے، جس میں اسٹیل اور ایلومینیم پر پہلے ہی 50 فیصد اضافی ڈیوٹی لاگو کی جاچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ ٹیکس ہٹانے پر آمادہ نہیں ہوا، تو کینیڈا کو بھی جوابی اقدامات پر مجبور ہونا پڑے گا۔
وزیراعظم نے تجارتی مشاورت کے لیے کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں معاشی صورتحال اور امریکہ کے ساتھ تجارتی حکمتِ عملی پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے 21 جولائی کو امریکہ کے ساتھ کسی مفاہمتی پیش رفت کی آخری تاریخ قرار دیا، تاہم اعتراف کیا کہ “فی الحال ٹیکسوں کے بغیر معاہدے کے تحت آگے بڑھنا ممکن نہیں لگتا۔”

