امریکہ کے ساتھ صرف ‘صحیح معاہدہ’ پر دستخط کیے جائیں گے:وزیراعظم مارک کارنی

اوٹاوا(نامہ نگار)کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی و دفاعی مذاکرات ایک نازک مرحلے میں داخل ہیں، اور وزیراعظم کینیڈا مارک کارنی نے واضح کیا ہے کہ کوئی سمجھوتا صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ کینیڈا کے مفادات اور خودمختاری کی حفاظت کرے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم مارک کارنی نے 28 جولائی کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا”Mذاکرات شدت کے ساتھ جاری ہیں … ہم صرف ‘صحیح معاہدے’ پر دستخط کریں گے۔”انہوں نے مزید کہا”ممکنہ طور پر ایک ‘landing zone’ موجود ہے — لیکن ہمیں وہاں پہنچنا ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ صورت حال کیا بنتی ہے” .

دونوں ممالک یکم اگست کو اس اجازت دہ مدت کی موعودہ تاریخ پر مذاکرات کو مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعض کینیڈائی درآمدات پر 35٪ تعرفے عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

کارنی کے بقول”یہ بہت مشکل مذاکرات ہیں، مکمل صفر ٹیکس والا معاہدہ ناممکن لگتا ہے لیکن ٹیکس کی سطح اور مقدار کے حوالے سے سوالات ہیں” کارنی نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ کینیڈا اس تمام دستیاب وقت کا بھر پور استعمال کرے گا تاکہ امن، تجارتی تحفظ، اور خودمختار فیصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات انجام دے سکیں.

کینیڈا اپنی برآمدات کا تقریباً 75٪ امریکہ کو بھیجتا ہے، اسلئےتجارت کا کوئی نیا معاہدہ دونوں ملکوں کیلئے انتہائی اہم ہے، مگر یہ بھی واضح کیا کہ مذاکرات کی پیچیدگی مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے

مارک کارنی نے دوبارہ یہ اعادہ کیا ہے کہ کینیڈا کسی بھی معاہدے کو صرف “صحیح” اور منصفانہ سمجھ کر ہی عوام کے سامنے لائیگا۔ اس فیصلے میں قومی مفاد، معاشی تحفظ، روزگار، اور آئینی خودمختاری کلیدی کردار ادا کریں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں