نیویارک (نیویارک ٹائمز/اے ایف پی/رائٹرز) —امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ 2019 میں امریکی نیوی سیلز نے شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اُن کی جاسوسی کیلئےایک خفیہ آپریشن کیا، جو بری طرح ناکام ہو گیا۔ اس مشن کے دوران متعدد شمالی کوریائی عام شہری ہلاک ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کی ایلیٹ نیوی سیلز فورس نے ’سننے والا آلہ‘ نصب کرنے کی کوشش کی تھی، تاکہ شمالی کوریا کے گوشہ نشین رہنما کم جونگ اُن کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے۔ تاہم یہ کارروائی فوراً بے نقاب ہو گئی۔
یہ خفیہ آپریشن اُس وقت انجام دیا گیا جب امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان جوہری مذاکرات جاری تھے۔ اخبار کے مطابق اس قدر خطرناک مشن کے لیے براہِ راست صدارتی منظوری درکار تھی، لیکن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 5 ستمبر 2025 کو دعویٰ کیا کہ انہیں اس کارروائی کا کوئی علم نہیں تھا۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا’’مجھے اس کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں، میں پہلی بار اس مشن کے بارے میں سن رہا ہوں۔‘‘نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ مہینوں کی تیاری کے باوجود یہ آپریشن ’’بھیانک انداز‘‘ میں ناکام ہوا۔ اخبار نے بتایا کہ چھوٹی آبدوزوں کے ذریعے سیلز فورس شمالی کوریا پہنچی اور تیر کر ساحل تک پہنچی، لیکن قریب ہی موجود ایک کشتی کو نہ دیکھ سکی۔
امریکی کمانڈوز نے غلطی سے یہ سمجھا کہ مشن افشا ہو گیا ہے، جس پر فائرنگ شروع کر دی گئی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں دو یا تین لاشیں پانی میں تیرتی دکھائی دیں، جن کے پاس نہ تو کوئی ہتھیار تھا اور نہ ہی کوئی فوجی وردی۔ رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والے ممکنہ طور پر عام شہری تھے جو سیپیاں نکالنے کے لیے غوطہ لگا رہے تھے۔
سیلز کمانڈوز بعد ازاں بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔اخبار کے مطابق اس واقعے پر کئی بار انکوائری کی گئی لیکن ان رپورٹس کے نتائج خفیہ رکھے گئے اور کانگریس کے اہم رہنماؤں کو بھی آگاہ نہیں کیا گیا۔اگرچہ یہ ناکام آپریشن کسی بڑے بین الاقوامی بحران کا باعث نہیں بنا، تاہم اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ امریکی ایلیٹ فورسز دنیا بھر میں کس قدر رازداری اور آزادی کے ساتھ کارروائیاں انجام دیتی ہیں۔

