امریکی وزیر خارجہ اسرائیل پہنچ گئے، قطر پر حملے سے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے: روبیو

یروشلم ( ٹائمز آف اسرائیل، رائٹرز)امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سرکاری دورے پر اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایک ہفتہ قبل اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ قطر میں اسرائیلی حملے سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے، تاہم اس کے اثرات اور جنگ بندی کی کوششوں پر بات چیت ضروری ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق مارکو روبیو اور ان کی اہلیہ جینیٹ دوسدیبس روبیو اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ پہنچے، جہاں امریکی سفیر مائیک ہکبی اور دیگر حکام نے ان کا استقبال کیا۔ یہ جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کا دوسرا دورہ ہے۔

روبیو اپنے اس دورے میں اسرائیل کی سلامتی کے لیے امریکا کے عزم کی تجدید اور غزہ میں حماس کے قبضے میں موجود یرغمالیوں کی رہائی پر زور دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق آج روبیو اور نیتن یاہو یروشلم میں مغربی دیوار (ویسٹرن وال) پر ایک ساتھ جائیں گے۔

واشنگٹن سے روانگی کے وقت صحافیوں سے گفتگو میں مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا قطر میں حماس رہنماؤں پر اسرائیلی حملے سے خوش نہیں، تاہم اس حملے سے دونوں ممالک کے اتحادی تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ ہمارے اور اسرائیلیوں کے تعلقات کی نوعیت کو نہیں بدلے گا، لیکن ہمیں اس پر بات کرنا ہوگی، خاص طور پر کہ اس کا جنگ بندی کی کوششوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔”

روبیو نے مزید کہا کہ وہ اسرائیلی حکام سے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ وہ غزہ میں مستقبل کا راستہ کس طرح دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ حماس کو شکست ہو، جنگ ختم ہو، اور تمام 48 یرغمالیوں کی رہائی ہو جائے، چاہے وہ زندہ ہوں یا جاں بحق۔

واضح رہے کہ اسرائیلی حملے میں وہ حماس رہنما نشانہ بنے تھے جو قطر میں جمع ہو کر ٹرمپ انتظامیہ کی نئی جنگ بندی تجویز پر بات چیت کر رہے تھے۔ گزشتہ روز اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بظاہر اعتراف کیا کہ میزائل حملے میں ہدف بنائے گئے رہنما مارے نہیں گئے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور جنگ بندی کے امکانات مزید پیچیدہ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں