واشنگٹن(بیورورپورٹ)امریکی کانگریس مین جو ولسن نے اعلان کیا کہ انہوں نے پاکستان میں جمہوریت کو دبانے اور سیاسی مخالفین کو غلط طریقے سے قید کرنے کے ذمہ دار پاکستانی حکام پر پابندیاں عائد کرنے کیلئے ایک قرارداد کا مسودہ مکمل کر لیا ہے۔

امریکی قانون سازوں نے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کیلئےمداخلت کی اپیل کی ہے۔ ریپبلکن کانگریس مین جو ولسن اور اوگسٹ پلگر نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو خط لکھا ہے، جس میں پاکستان میں جمہوریت، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، اور بنیادی آزادیوں کی بحالی پر زور دیا گیا ہے۔
کانگریس مین جو ولسن نے “پاکستان ڈیموکریسی ایکٹ” کے نام سے ایک بل پیش کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، جو پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف سمیت ان افراد پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کرتا ہے جو جمہوری عمل میں مداخلت کے ذمہ دار ہیں۔
اس سے قبل، 60 سے زائد ڈیموکریٹک قانون سازوں نے صدر جو بائیڈن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ یہ اقدامات پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی بحالی کیلئے امریکی قانون سازوں کی بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتے ہیں۔
کانگریس مین جو ولسن اور اوگسٹ پلگر نے اپنے خط میں کہا کہ پاکستان میں جمہوری عمل، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، اور بنیادی آزادیوں کو بحال کرنا ضروری ہے۔یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں حالیہ انتخابات کے بعد سیاسی عدم استحکام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔
کانگریس مین جو ولسن نے اسی نوعیت کا ایک خط صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ارسال کیا، جس میں انہوں نے پاکستان کی موجودہ داخلی صورتحال کو امریکی اسٹریٹجک مفادات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ امریکہ کیلئےبھی اہمیت رکھتی ہے۔
قرارداد کے اہم نکات:
🔹 پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کو امریکی پالیسی کا حصہ بنانے کی تجویز🔹 30 دن کے اندر ان حکام کی شناخت اور ان پر پابندیاں لگانے کا جائزہ جو جمہوری عمل کو نقصان پہنچا رہے ہیں🔹 پابندیوں کے دائرہ کار کو ان حکام کے اہل خانہ تک بڑھانے کی تجویز
کانگریس مین ولسن نے اپنے آفیشل X (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر کہا”یہ قرارداد پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کیلئے امریکی پالیسی طے کرے گی اور ذمہ دار افراد پر پابندیاں عائد کرنے کیلئے 30 دن کا جائزہ لینے کی تجویز دے گی۔”
پچھلے قانون سازی اقدامات:✅ جون 2024 میں، 118ویں کانگریس میں ایک قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کی گئی تھی، جس میں پاکستان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔✅ ہاؤس ریزولوشن 901، جو 368-7 کے واضح فرق سے منظور ہوئی،اس میں 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
🔹 سابقہ امریکی کانگریسی اقدامات زیادہ تر علامتی نوعیت کے تھے، لیکن یہ نیا مجوزہ “پاکستان ڈیموکریسی ایکٹ” براہ راست پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دیتا ہے، جو پاکستان کی داخلی سیاست میں واشنگٹن کے رویے میں بڑی تبدیلی کی علامت ہو سکتا ہے۔🔹 اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے، تو یہ امریکی پالیسی میں ایک تاریخی موڑ ثابت ہوگا، جو واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

